جبری گمشدگیوں کا سلسلہ نہ تھم سکا، شیعہ علماء کونسل کے اہم رہنما بھی ریاستی اداروں کے ہاتھوں لاپتہ
شیعیت نیوز: شیعہ علماء کونسل کے رہنماء اور جامع مسجد المصطفیٰ شیخوپورہ کے خطیب علامہ فضل عباس قمی کو باوردی اور سادہ لباس سرکاری اہلکاروں نے مدرسے سے اغواء کرکےجبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
اس سے قبل علامہ فضل عباس مریدکے میں تھے، وہاں بھی ان کو قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے شامل تفتیش کیا تھا، تاہم بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔
گذشتہ روز دوبارہ سادہ لباس اور باوردی اہکار جو سرکاری گاڑیوں میں آئے تھے علامہ فضل عباس کاظمی کو اغواء کرکےاپنے ساتھ لے گئے۔ علامہ فضل عباس کے متعلقین کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس سے رابطہ کیا ہے، لیکن پولیس معاملے سے مکمل طور پر لاعلم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 60 عالمی تنظیموں کا یمن میں سعودی جنگی جرائم کے بارے تحقیقات بحال کرنے کا مطالبہ
شیعہ علماء کونسل کے مقامی رہنماوں نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے علامہ فضل عباس قمی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر علامہ فضل عباس قمی کیخلاف کوئی الزام ہے تو اس کیلئے عدالتیں موجود ہیں، ماورائے عدالت اقدام سے عوام میں اشتعال پیدا ہوتا ہے اور پھر سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات جنم لیتے ہیں۔
شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ سید ناظرعباس تقوی نے کہا کہ علامہ فضل عباس قمی کو فی الفور رہا کیا جائے اور اگر ان کیخلاف کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے۔ہم ان کے بلاجواز اغواء کی مذمت کرتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ ملک بھر سے کئی سالوں سے شیعہ جوانوں اور علماء کو سادہ لباس اور باوردی اہلکاروں نے گھروں سے اغواء کرکے لاپتہ کررکھا ہے، ان میںسے کئی کو گھروں سے لے جانے کی ویڈیوز بھی موجود ہیں تاہم آج تک ان کے اہل خانہ ان کی راہ تک رہے ہیں۔







