طالبان کی سرمایہ کاری کی دعوت ، سرمایہ کاروں کو جان و مال کے تحفظ کی یقین دہانی

23 اکتوبر, 2021 10:43

شیعیت نیوز: طالبان نے افغانستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ملک میں نئی حکومت کے قائم ہونے سے، سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول اور مواقع فراہم ہوئے ہیں۔

طالبان نے ایسی حالت میں افغانستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے کہ ابھی تک کسی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے اور اس ملک کا اقتصاد، امریکہ کی طرف سے اسکے سرمایہ کو روکے جانے کی وجہ سے، دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہونچ گیا ہے۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے داخلی اور بیرونی سرمایہ کاروں کی جان و مال کی حفاظت کی ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں نئی حکومت کی تشکیل سے اس ملک میں سرمایہ کاری کے لئے سازگار مواقع فراہم ہوئے ہیں۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ امارت اسلامی سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرائے گی اور وہ انہیں سرمایے اور جان کے تحفظ کا یقین دلاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : یمنی فورسز کے ہاتھوں مآرب کا ایک اور اہم علاقہ نجا آزاد، اماراتی فوجی فرار پر مجبور

دوسری جانب افغانستان کے امور میں روس کے خصوصی ایلچی ضمیر کابلوف نے طالبان پر واضح کیا ہے کہ اگر طالبان اپنی حکومت کو دنیا سے تسلیم کرانا چاہتے ہیں تو انھیں سب سے پہلے اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے۔

اطلاعات کے مطابق روس کے خصوصی ایلچی ضمیر کابلوف نے کہا ہے کہ ماسکو میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان نے چین اور پاکستان سمیت شرکاء کو انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے اور گورننس کے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ضمیر کابلوف نے مزید کہا کہ طالبان نے یہ یقین دہانی اس انتباہ پر کرائی ہے کہ طالبان کو صرف اور صرف اس شرط پر تسلیم کیا جا سکتا ہے جب وہ انسانی حقوق کے بارے میں بین الاقوامی توقعات پر پورا اترنا چاہیں اور اپنے وعدے پورے کریں۔

روس کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات کو ترک کرکے افغان عوام کی مدد کے لیے متحد ہو جائیں۔

ضمیر کابلوف نے مزید کہا کہ کوئی افغانستان میں طالبانی ​​حکومت کو پسند نہیں کرتا لیکن حکومت کو سزا دینے کا مطلب پوری عوام کو سزا دینا نہیں ہونا چاہیئے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں پیدا ہونے والی نئی صورت حال کے پیش نظر ماسکو میں روس، امریکہ، افغانستان، پاکستان اور چین کے حکام کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تھا تاہم امریکہ نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

10:28 صبح اپریل 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔