سعودی عرب میں ایک سماجی کارکن خاتون کو 18 سال کی قید کی سزا
شیعیت نیوز: سعودی عرب نے ایک سماجی کارکن خاتون کو 18 سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ریاض کی ایک عدالت نے ملک کی ایک مشہور سماجی کارکن خاتون کو 18 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
فارس خبر رساں نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دلال الخلیل نامی سعودی خاتون کو یہ سزا سنائی گئی ہے۔
دلال الخلیل ستمبر 2017 سے القصیم علاقے میں واقع الطرفیہ جیل میں قید ہیں۔
العہد ویب سائٹ کے مطابق دلال الخلیل امداد پہنچانے اور سماجی امور میں سرگرم تھیں اور سعودی عرب کے سیکورٹی اہلکاروں نے ستمبر 2017 کو القصیم میں ان کے گھر پر حملہ کرکے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔ سیکورٹی اہلکاروں نے اس کے شوہر کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔
در ایں اثنا قانونی اداروں نے مذکورہ خاتون کے خلاف سنائی گئی سزا کو ظالمانہ قرار دیا اور سعودی عرب کے سرکاری اداروں سے گرفتار خواتین کے حقوق کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا اور بغیر شرط کے قیدیوں اور سماجی کارکنوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : چہلم امام حسینؑ سے ایک روز قبل داعش کے 2 خطرناک دہشت گرد کراچی سے گرفتار
دوسری جانب سعودی عرب کے قومی دن پر پبلک پارک میں لڑکی کو ہراساں کرنے پر پولیس نے ایک نوجوان کو گرفتار کرلیا۔
سعودی عرب میں قومی دن کے تقریبات کے دوران پبلک پارک میں لڑکی کو ہراساں کرنے پر پولیس نے 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کرلیا ہے، خاتون کو ہراساں کرنے کا واقعہ سعودی شہر طائف میں پیش آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے بعد پولیس نے نوجوان کو گرفتار کرلیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پارک میں موجود لڑکی کو نوجوان نے ہاتھ لگایا اور بھاگ گیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق نوجوان پولیس کی حراست میں ہے جس کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کے ساتھ ہراسانی کے واقعات میں ملوث افراد کو 2 سال تک قید کی سزا اور ایک لاکھ ریال تک جرمانہ ہوسکتا ہے تاہم دوبارہ اسی جرم میں گرفتار ہونے پر قید کی سزا کا دائرہ کار 5 سال جب کہ جرمانہ 80 ہزار ڈالر تک عائد کیا جاسکتا ہے۔







