داعش کے ہیڈ کوارٹر لال مسجد پرتحریک طالبان کا پرچم بلند،مولوی عبدالعزیز نے پرچم کے تحفظ کیلئےاسلحہ اٹھالیا
شیعیت نیوز: داعش کے ہیڈ کوارٹرلال مسجد اسلام آباد کے مولوی عبدالعزیز نے جامعہ حفصہ پرتحریک طالبان کا جھنڈا لہرا دیا ، اسلام آباد پولیس کے پرچم اتروانے کی کوشش پر مولوی عبد العزیز نے پولیس پر اسلحہ تان لیا،سنگین نتائج کی دھمکیاں ، ریاست ایک دہشت گرد گروہ کے آگے بے بس ، مظلوم ملت تشیع کو ہزاروں بے گناہ شہیدوں کی عظیم قربانی پیش کرنے کے بعد بھی ملک دشمن اور ان سفاک دہشت گردوں اورریاست مخالف عناصر کو محب الوطن سمجھاجانا افسوس ناک ہے۔
تفصیلات کےمطابق بدنام زمانہ دہشت گرد اور داعش کے سب سے بڑے حامی برقع پوش مفرور مولوی عبد العزیز نےوفاقی دارالحکومت میں ایوان اقتدار ،ایوان وزیر اعظم اور ایوان صدر سے چند قدم کے فاصلے پرلال مسجد جامعہ حفصہ پر طالبان دہشت گردوں کا پرچم لہرا دیا۔ اسلام آباد پولیس نے حکام بالا کی ہدایت پر طالبان کا پرچم اتروانے کیلئے جامعہ حفصہ کا گھیراؤ کیا تو مولوی عبد العزیز نے اپنے مسلح کارندوں کے ہمراہ الٹا پولیس کا گھیراؤ کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: ناموس ِرسالتؐ وامامتؑ پر تکفیری وناصبی حملے، ایک عام عزادار کس طرح اس کا راستہ روک سکتا ہے؟؟
پولیس نے مولوی عبد العزیز سے جھنڈا اتروانے کو کہا تو مولوی عزیزنے نہ صرف جھنڈا اتارنے سے انکار کیا بلکہ پولیس اہلکاروں کو کہا کہ لعنت بھیجو ایسی نوکروں پر تم لوگوں کو فحاشی کے اڈے نظر نہیں آتے یہ معصوم بچیاں ہی نظر آتی ہیں، یوں تو طالبان آئیں گے اور پاکستان کے طالبان بھی تم لوگوں کا حشر کریں گے۔ واضح رہے کہ مولوی عبد العزیز کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو دی جانے والی ان دھمکیوں کی ویڈیو اس سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہے ، لیکن قوم جانتی ہے کہ مولوی عبد العزیز کے خلاف کوئی سخت اقدام نہیں اٹھایا جائے گا کیوں کہ قانون صرف مجالس وذکر حسینؑ کے خلاف حرکت میں آتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےبھی بارہا ان دہشت گرد طالبان کے زیر قبضہ افغان حکومت کی کئی مواقع پر تعریف کی اور اقوام عالم پر زور دیا کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرلیں، اگر ہمارے حکمرانوں کو رویہ ایسا ہی رہا تو کوئی بعید نہیں کہ جلد پاکستان میں بھی افغان طرز کی طالبانی حکومت کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ جائےاور یوں ریاست مدینہ کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوجائے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان، دارالحکومت کابل میں پھر دھماکہ سے دہل گیا
لال مسجد کی جامعہ حفصہ پر طالبان کا پرچم لہرا یا جانا ریاست کی رٹ پر سوالیہ نشان ہے ، اسی لال مسجد سے مشرف دور حکومت میں بھی ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا گیا تھا جس پر سکیورٹی اداروں نے ان کے خلاف فوجی آپریشن بھی کیا لیکن اب پھر مولوی عبد العزیز کی سرپرستی میں یہ دہشت گردی کا یہ اڈہ سر اٹھا رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق طویل کوشش کے بعد بالآخر پولیس حکام جامعہ حفصہ سے طالبان کا پرچم اتروانے میں کامیاب ہوگئے۔







