شیعہ علماء کونسل نے ترجمان پنجاب حکومت فیاض الحسن چوہان کے خلاف بڑا مطالبہ کردیا
شیعیت نیوز:مینار پاکستان پر ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کو سانحہ عاشورہ بہاولنگر سے بڑا واقعہ قرار دیکر ترجمان پنجاب حکومت فیاض الحسن چوہان نے اپنی پست اور ناصبی ذہنیت کا مظاہرہ کردیا۔
شیعہ علماء کونسل شمالی پنجاب کے ترجمان مولانا نوید ظفر نے ٹک ٹاکر لڑکی سے ہونیوالی بدسلوکی کو بہاولنگر میں عاشورہ محرم الحرام کو ہونیوالی دہشت گردی سے زیادہ سنگین واقعہ قرار دینے پر حکومت پنجاب کے ترجمان صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موصوف کا موقف حکومت کی بے حسی اور ناصبی ذہنیت کا عکاس ہے۔
میڈیا سیل کی طرف سے جاری بیان میں مولانا نوید ظفر نے کہا کہ یوم آزادی پر مینار پاکستان کے نیچے ٹک ٹاکر خاتون کیساتھ ہونیوالا شرمناک واقعہ ہماری معاشرتی بے راہ روی کی عکاسی کرتا ہے، اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ٹک ٹاکر کا اپنا فعل جیسا بھی تھا لیکن کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کسی خاتون کی عزت پر ہاتھ ڈالے اور دست درازی کرے۔
یہ بھی پڑھیں: سربراہ تحریک بیداری امت مصطفیٰ علامہ جواد نقوی کےحوالے سے اہم خبر سامنے آگئی
انہوں نے کہا کہ بہاولنگر میں جلوس عزاء پر مسجد سے دہشتگردوں کے حملے کو نجی ٹی وی چینل پر کم واقعہ قرار دینا فیاض الحسن چوہان کی ناصبی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے ایس ایچ او سے لے کر آئی جی پولیس پنجاب تک سب عزاداری کو روکنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے اور بددیانتی سے کام لے رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار، فیاض الحسن چوہان کے بیان کی وضاحت کریں کہ کیا پنجاب حکومت کی یہی پالیسی ہے کہ ٹک ٹاکر خاتون کیساتھ ہونیوالے واقعہ کو معصوم بچی سمیت پانچ مومنین کی شہادت سے زیادہ سنگین واقعہ قرار دیا جائے۔ ایسی حکومت کو شرم آنی چاہیے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان دینے پر فیاض الحسن چوہان سے استعفی لیا جائے۔ یہ شخص کسی حکومتی عہدے کیلئے اہل نہیں۔







