معروف افغانی نیوز اینکرشبنم دوران کا طالبان حکام سے متعلق اہم انکشاف سامنے آگیا
شیعیت نیوز: معروف افغانی نیوز اینکرشبنم دوران کا طالبان حکام سے متعلق اہم انکشاف سامنے آگیا۔افغانستان کے ٹی وی چینل پر نیوز اینکر کے فرائض انجام دینے والی خاتون صحافی کو طالبان نے کام کرنے سے یہ کہہ کر روک دیا ہے کہ اب نظام بدل گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کا کنٹرول سنبھالتے ہی طالبان نے خلاف توقع پہلا اعلان خواتین سرکاری ملازمین کو واپس محکمے میں آنے اور اپنی خدمات انجام دینے کی ہدایت کی تھی، جب کہ کابل پر قبضے کے بعد طلوع نیوز پر طالبان رہنماء مولوی عبدالحق حمد نے خاتون اینکر بہشتا ارغند کو انٹرویو دیکر سب کو حیران میں مبتلا کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ظلم کی انتہا، بہاولنگر جلوس عاشورا پرسعودی نواز کالعدم سپاہ صحابہ کےحملے میں 6 سالہ یتیم بچی ماہین بھی شہید ہوگئی
تاہم ریڈیو ٹیلی ویژن افغانستان کی نیوز اینکر شبنم دوران نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد میں اپنے چینل گئی تھی لیکن وہاں موجود طالبان نے میرے مرد کو لیگز کو جانے دیا اور مجھے دفتر میں داخل ہونے سے روک دیا۔
شبنم دوران کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اپنا آفس کارڈ بھی دکھایا اور میں حجاب میں بھی تھی لیکن اس کے باجود وہاں موجود طالبان نے کہا کہ اب نظام بدل گیا ہے اس لیے اب آپ واپس گھر جائیں۔ خاتون صحافی نے یہ بھی کہا کہ ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں جس پر عالمی طاقتوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور پولیس کی بڑی کارروائی ، داعش اور کالعدم TTP کا اہم کمانڈر گرفتار
دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین کے ایک گروہ نے امور مملکت میں خواتین کو شامل کرنے اور سرکاری و نجی دفاتر میں کام کرنے کی اجازت کے لیے دارالحکومت میں مظاہرہ کیا، خواتین کا کہنا تھا کہ گزشتہ 20 برسوں میں خواتین نے اہم شعبوں میں ترقی کی ہے اور ملک کے لیے خدمات انجام دی ہیں۔ اس ساری محنت کو یوں رائیگاں نہیں کیا جا سکتا۔







