شہید قائد عارف حسینیؒ کی یاد میں احیائے فکر داعی وحدت سیمینار ،فرزندان و رفقائے شہید قائد کا خطاب
شیعیت نیوز: ملک بھر کی طرح لاہور میں شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 33 ویں برسی کے موقع پر سیمینار کا انعقاد ہوا۔ جس میں شہید قائد کے رفقاء اور فرزندانِ شہید نے شرکت کی۔ سیمینار کے مہمان خصوصی شہید کے فرزند علی الحسینی، سید حسین الحسینی جبکہ دیگر مہمانان گرامی میں افسر رضا خان، نثار ترمذی، ارشاد حسین ناصر، ڈاکٹر دانش نقوی، ڈاکٹر علی عباس نقوی، آئی ایس او پاکستان کے نائب صدر حسن عارف اور دیگر نے شرکت کی۔ سیمینار کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے قاری سبط حسن نے کیا جبکہ علی رضوان ہمت نے ترانہ شہات پیش کیا۔ ڈاکٹر سجاد رضوی اور لعل مہدی نے بھی منظوم کلام اور ترانہ شہادت پیش کرتے ہوئے شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کو خراج عقیدت پیش کیا۔
احیائے فکر داعی وحدت سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے علامہ شبیر بخاری نے کہا کہ قائد شہید نے دو حصوں میں منقسم ملت تشیع پاکستان کو یکجا کیا۔ انہوں نے بطور قائد ملت جعفریہ مُلک کے گوش و کنار میں دورہ جات کئے۔ انہوں نے امام راحل روح اللہ خمینیؒ کے افکار اور ان کی راہ پر عمل کرتے ہوئے خود کو اس قدر ضم کر دیا تھا کہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نے فرمایا تھا کہ ہم سب نے جذباتی طور پر خطِ امام پر عمل کیا جبکہ شہید قائد نے شعوری طور پر پاکستان کے عوام میں افکارِ امام کو پہنچایا۔ انہوں نے اپنے خطاب مزید کہا کہ شہید مستجاب الدعا تھے، جب قرآن و سنت کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ مینار پاکستان کے بجائے موچی گیٹ میں منعقد کرنے کا ہوا تو شہید قائد نے ہی فیصلہ کیا کہ اجتماع مینار پاکستان پر ہی ہوگا۔ یہ ان کا اپنے ویژن، اخلاص اور دعاوں پر یقین کا ثمر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نائن الیون حملوں میں سعودی کردار سے متعلق مزید دستاویزات جاری کی جائیں، امریکی سینیٹرز
علامہ شبیر بخاری نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ضیاء الحق نے پاکستان میں اسلام کے نفاذ کا نعرہ لگایا، مگر وہ اپنے عزائم میں ناکام ہوگیا تو شہید قائد نے فرمایا ہم تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اسلام کے نفاذ کیلئے عملی اقدامات کریں گے۔ علامہ شبیر بخاری نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اتحاد بین المسلمین کے ساتھ ساتھ اتحاد بین المومنین ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔ علامہ شبیر بخاری کے خطاب کے بعد دستہ امامیہ کے سابق رکن ڈاکٹر سجاد رضوی نے شہید قائد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ترانہ شہادت پیش کیا تو حاضرین کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔
ایڈووکیٹ امجد کاظمی اور افسر رضا خان نے اپنے اپنے خطاب میں شہید حسینی کی زندگی سے جڑے واقعات کو بیان کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ علامہ انجینئر امتیاز رضوی نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ شہید حسینی کو پاکستان کے غیور عوام کی جانب سے قائد ملت اسلامیہ کا خطاب ملا، وہ شیعہ سنی علماء کرام کو ملا کر چلنا چاہتے تھے۔ ان کی ترجیحات میں پاکستان میں حقیقی اسلام کا نفاذ تھا، کیونکہ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے اور یہاں اسلام کے نام پر ضیاء الحق مخصوص فقہ نافذ کرنا چاہتا ہے، جبکہ وہ اسلام نافذ کرنے کے ظاہری نعرے میں ناکام ہوچکا ہے۔ علامہ امتیاز رضوی کا مزید کہنا تھا کہ شہید حسینی کا ویژن واضح تھا، اسی باعث ان کا نوجوانوں بالخصوص آئی ایس او کے نوجوانوں پر بہت اثر تھا۔ کوئٹہ ٹرین مارچ کے دوران کسی نے ضیاء الحق کے خلاف وال چاکنگ کرتے ہوئے کسی جانور سے تشبیہ دے دی تو شہید حسینی نے مجھے فرمایا یہ الفاظ آپ کی تنظیم کی تربیت کے منافی ہیں، ان کو مٹا دیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنامین نیتن یاہو ان کی اپنی پارٹی کو بھی برداشت نہیں، صدارت سے ہٹائے جانے کا امکان
وہ ضیاء الحق کے بارے میں دل میں ذرا بھی ہمدردی نہیں رکھتے تھے، مگر اسلامی اقدار کو ہرگز فراموش نہیں کرتے تھے۔ اگر ضیاء الحق کے دور میں کوئی مخالفت میں بات کرتا تھا، وہ فقط اور فقط شہید حسینی تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہم شہید حسینی کے افکار کو بھلا چکے ہیں، اگر ہم شہید حسینی کے افکار اور سیرت پر عمل کریں تو ان کی ذات ہمارے لئے حبل اللہ ثابت ہوسکتی ہے اور ملت تشیع پاکستان یکجا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں قرآن و سنت کانفرنس میں پیش کردہ شہید کا منشور ہمارا راستہ کے بارے میں بتایا کہ یہ منشور شہید حسینی کے افکار اور ویژن کو واضح کرتا ہے اور آج بھی قابل عمل ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو عام کیا جائے۔
سابق وفاقی وزیر تعلیم اور شہید عارف الحسینی کے مشیر سیاسی امور سید منیر حسین گیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہید علامہ عارف الحسینی کا تمام مذہبی جماعتوں سے قریبی رابطہ تھا۔ ان کے طرز سیاست سے اتحاد امت کا درس ملتا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے ملت تشیع پاکستان کے اندر ایسا کوئی لیڈر نہیں دیکھا، جس کی قوت فیصلہ شہید قائد علامہ حسین الحسینی جیسی ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شہید حسینی کی شہادت کے بعد سیمینارز اور کانفرنسز کا انعقاد کربلا کے بعد مجالس کے مترادف ہیں، ہمیں عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا، جیسا کہ امتیار رضوی نے شہید حسینی کے ویژن ہمارا راستہ منشور کے بارے بتایا ہے کہ اسے عام کرنا چاہیئے تو میں تو اس کو شائع کروانے کا اعلان کرتا ہوں۔ ہمیں شہید کے ویژن کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے ملت تشیع پاکستان کو نظریاتی اختلاف میں الجھایا دیا گیا اور ملت کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ منبر سے اتحاد و وحدت اور درست نطریات کی ترویج کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: روضہ امام حسین علیہ السلام اور ضریح مبارک کی تغسیل و غبار روبی کا عمل مکمل
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے علامہ عارف حسین الحسینی کے فرزند علی حسین الحسینی نے کہا کہ قائد شہید نے سیاسی اور اجتماعی میدان میں ہمیشہ اعتدال کے راستے کو اختیار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پارا چنار میں چند لوگوں نے میرے والد گرامی کے توہین کی تو انہوں نے جرگہ کے فیصلہ کے خلاف ان کو معاف کر دیا اور کہا کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ کوئی میری ذات سے الگ ہو، شہید کے افکار ہمیں متحد ہونے اور اعتدال کا راستہ اپنانے کی فکر دیتے ہیں۔ سیمینار میں رکن اسلامی نظریاتی کونسل علامہ افتخار حسین نقوی کا وڈیو خطاب بھی سنایا گیا، جس میں انہوں نے شہید کی سیاسی و ملی جدوجہد کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی۔ سیمینار کا اختتام قاری سبط حسن نے دعائے سلامتی امام زمانہ (عج) سے کیا۔ سٹیج سیکرٹری انجم رضا ترمذی نے حاضرین و مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا۔ سیمینار کے اختتام پر لاہور کے بزرگ تنظیمی احباب نے شہید کے فرزند علی حسینی کی اقتداء میں نماز مغربین ادا کی۔







