سعودی عرب پر یمن کا ڈرون اور دو بلیسٹک میزائلوں سے پھر بڑا حملہ

28 جولائی, 2021 12:08

شیعیت نیوز: جارح سعودی اتحاد نے بدھ کی صبح دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے دو ڈرون طیاروں اور دو بلیسٹک میزائلوں کا مقابلہ اور انہیں انٹرسپٹ کر دیا گیا۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی اتحاد کے بدھ کے روز علی الصباح دعویٰ کیا کہ یمنیوں کی جانب سے جازان پر حملہ آور ڈرون اور دو بلیسٹک میزائلوں سے حملہ کیا گیا جسے ناکام بنا دیا گیا۔

یمنی فوج اور رضاکار فورس کے جوان 2019 کے آغاز سے ہی جارح سعودی عرب اور امارات کے خلاف حملہ آور ڈرون طیارے استعمال کر رہے ہیں۔

یمنی فوج اور رضاکار فورس نے سب سے پہلے لہج صوبے کی العند چھاونی پر سعودی-اماراتی- امریکی حکام کی بڑی نشست کو نشانہ بنایا تھا۔

ان ڈرون طیاروں کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ دھماکہ خيز مواد لے جانے کی توانائی رکھتے ہیں اور اپنے ہدف سے دس میٹر اوپر دھماکے سے پھٹ جاتے ہیں اور اس کے دھماکہ خیز مواد بڑی مقدار میں ادھر ادھر پھیل جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ موجودہ کابینہ کے اراکین کی آخری ملاقات

دوسری جانب خبری ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کے صوبہ مآرب میں سعودی اتحاد کے فوجی اڈے میں زور داردھماکہ ہوا ہے۔

المیادین کی رپورٹ کے مطابق یہ دھماکہ اس اڈے پر ہونے والے حملے کی وجہ سے ہوا تاہم ابھی تک اس دھماکے سے جانی اور مالی نقصان کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ اور ابھی تک کسی بھی گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے صوبہ مآرب کے رحبہ علاقے کو حالیہ دنوں میں کئی مرتبہ اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ گزشتہ 6 برس سے یمن پر سعودی عرب کی جاری وحشیانہ جارحیت میں اب تک ہزاروں یمنی شہری شہید و زخمی ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں عام شہری بے گھر ہوئے ہیں اور یمن کی 80 فیصد بنیادی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں۔

6:19 شام مارچ 27, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔