دو ریاستی حل پر بات کرنا اب بیکار ہے، اسرائیلی وزیر خارجہ
شیعیت نیوز: اسرائیلی وزیر خارجہ یائرلپیڈ نے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال دو ریاستی حل کی طرف جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
عبرانی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ کے مطابق وزیر خارجہ لپیڈ نے کل یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کی کونسل کی ایک سرکاری کانفرنس میں شرکت کی جس میں 27 وزرائے خارجہ موجود تھے۔انہوں نے خطاب میں کہا کہ دو ریاستی حل کے بارے میں بات کرنا اب بیکار ہے۔
انہوں نے دو ریاستوں کے حل سے منسلک کیے بغیر عرب ممالک کے ساتھ کسی سمجھوتے کے حصول کے امکان کی توقع ظاہر کی اور کہا کہ اب عرب ممالک دو ریاستی حل کے پرزور حامی نہیں ہیں۔
لپیڈ نے مزید کہا کہ موجودہ وقت میں دو ریاستی حل کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہمارے اور اعتدال پسند عربوں کے مابین ایک اچھی بات ہو رہی ہے۔ میں دوسرے ممالک کے لئے بھی دائرہ امن کو بڑھانا چاہتا ہوں اور یہ کہ آخر میں فلسطینیوں کو بھی شامل کرنا چاہئیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی دو ریاستوں کے حل کے خیال کی حمایت کرتے ہیں ، لیکن اس کے لئے بھی شرائط ہیں ، بشمول امن کی خواہش مند ریاست بھی۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ میں اسرائیلی فوج کے تباہ ہونے والے بغیر پائلٹ ڈرون طیارے کا ملبہ مل گیا
دوسری جانب اسرائیلی وزیر داخلہ آئیلیٹ شیکڈ نے کہا ہے کہ نئی حکومت مغربی کنارے یا القدس میں آباد بستیوں کو منجمد نہیں کرے گی۔
شیکڈ نے اخبار ’’اسرائیل ہیوم‘‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ کومت مغربی کنارے کے علاقوں کے سیکٹر کو’ C‘سے’A‘ یا ’ B‘ میں تبدیل نہیں کرے گی۔ یہاں تک کہ اس حوالے سے امریکہ کی کوئی تجویز بھی قبول نہیں کی جائے گی۔
متبادل وزیر اعظم اور وزیر خارجہ یائیر لاپیڈ کی یہودی آباد کاری کی مخالفت کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر داخلہ نے کہا کہ لپیڈ کےموقف کی کوئی حیثیت نہیں۔
انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور وزیر دفاع بینی گینٹز آباد کاروں کے ساتھ معاہدے کی پاسداری کریں گے۔
دو ہفتے قبل آبادکاری ذیلی کمیٹی نے مغربی کنارے میں منصوبوں کی منظوری دی تھی۔
یہ 7 مہینوں میں پہلی بار آباد کاری ذیلی کمیٹی کی تشکیل کےبعد غرب اردن میں منصوبوں کی منظوری دی گئی۔







