امریکی دہشت گردی کی ایک اور مثال، ہیٹی کے صدر کے قاتل امریکی جاسوس نکلے

13 جولائی, 2021 10:52

شیعیت نیوز: ہیٹی کے صدر جووینل موئیزے کے قاتل امریکی پولیس کے مخبر نکلے۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہیٹی کے صدر جووینل موئیزے کے قتل کے الزام میں پکڑے گئے افراد کا تعلق امریکی پولیس سے بتایا جاتا ہے۔

امریکی ٹی وی چينل سی این این نے رپورٹ دی ہے کہ صدر جوونل موئز کے قتل میں پکڑے جانے والے افراد میں کم ازکم ایک شخص ایسا ہے جو امریکی پولیس کا جاسوس ہے۔

واضح رہے کہ ہیٹی کے صدر جووینل موئیزے کو چند روز قبل ان کی رہائش گاہ میں کے اندر قتل کر دیا گيا تھا۔ قاتلانہ حملے میں ان کی اہلیہ زخمی ہوگئی تھیں۔

53 سالہ جووینل موئیزے فروری 2017 میں صدارت کے منصب پر فائز تھے۔

یہ بھی پڑھیں : امارات یمن کے جنوبی حصے پر اپنا تسلط اور جزائر پر قبضہ جمانا چاہتا ہے، سعودی تجزیہ نگار

دوسری جانب امریکی ماہرین، پولیس اہلکار اور عام شہری سبھی کو یہ تشویش لاحق ہو چلی ہے کہ اس وقت ملک میں جرائم ، تشدد اور انتہا پسندی کی وہی لہر شروع ہوئی ہے جو کبھی نوے کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں ہوا کرتی تھی۔

آئی آر آئی بی نیوز نے مسلحانہ جرائم کی اطلاعات جمع کرنے والی امریکی ویب سائٹ ’’گن وائیلنس آرکائیو‘‘ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ چار جون کے ویکینڈ پر امریکہ بھر میں ۱۸۰ افراد گولی کا نشانہ بن کر ہلاک ہوئے۔

مذکورہ رپورٹ کے مطابق چار جون کے ویکینڈ پر ۱۰۰ افراد صرف شیکاگو میں گولیوں کا نشانہ بنے۔

امریکہ میں ہتھیار رکھنے کی آزادی نے اس ملک کو اندرونی طور پرسکیورٹی کے بحران سے روبرو کر دیا ہے جس کے باعث ملک بھر میں دن بدن انتہا پسندی اور مسلحانہ اقدامات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

گن وائلنس آرکائیو کے مطابق سالانہ ہزاروں افراد گولیوں کا نشانہ بن کر اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں ، مگر اسکے باوجود اسلحہ ساز لابی کے اثر و رسوخ کے باعث کوئی بھی حکومت اسلحے کو محدود کرنے کے سلسلے میں کوئی مؤثر قانون بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

9:37 شام مارچ 14, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔