ایک اور بچہ دیوبندی مسجد کے پیش امام کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا،والدین کا دینی مدارس پر سے اعتماد اٹھنے لگا

21 جون, 2021 14:23

شیعیت نیوز: ملک میں موجود دیوبند مدارس و مساجد میں طلباء اور معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور بدفعلی کی خبریں تسلسل کے ساتھ موصول ہورہی ہیں ۔ایبٖٹ آباد میں ایک اور بچہ دیوبندی مسجد کے پیش امام کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا،ملزم کا تعلق ملک دشمن دہشت گرد تنظیم کالعدم سپاہ صحابہ سے بھی بتایا جاتا ہے۔والدین کے درمیان شدید خوف و ہراس ،دینی مدارس پر سے اعتماد اٹھنے لگا۔

تفصیلات کے مطابق ایبٹ آباد میں معصوم بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والےدیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے امام مسجد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایس ایچ او تھانہ ڈونگا گلی نے کارروائی کرتے ہوئے بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے امام مسجد کو گرفتار کر کے اس کے خلاف تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مفتی عزیز الرحمان کی طلباءسے بدفعلی، دیوبند مفتی کی صحابہ کرام کی شان میں بدترین گستاخی پر صحابہ کے پروانے خاموش

میڈیا ذرائع کے مطابق نتھیا گلی کے رہائشی شکیل ولد عبد الرشید نے اپنے بیٹے کے ہمراہ بیٹے کی ہی مدعیت میں ایف آئی آر درج کروائی جس میں بتایا گیا کہ میں گذشتہ چھ ماہ سے جامعہ مسجد نتھیا گلی میں حفظ کر رہا ہوں ، ایک دن رات کو میں اپنے کمرے میں دیگر ساتھیوں کے ہمراہ سویا ہوا تھا کہ جامعہ مسجد کے امام قاری شوکت ہمارے پاس آئے اور مجھے سویا ہوا اُٹھا کر اپنے ساتھ کمرے میں لے گئے۔

بچے نے اپنے بیان میں کہا کہ اپنے کمرے میں لے جا کر قاری شوکت نے مجھ سے زبردستی جنسی زیادتی کی اور مجھے دھمکاتے ہوئے کہا کہ اگر اس حوالے سے کسی کو بتایا تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا۔ اس دوران میں دوبارہ اپنے کمرے میں واپس آیا اور روتا ہوا سو گیا۔ جب صبح نماز کے لیے اُٹھا تو دوبارہ قاری شوکت نے مجھے کہا کہ رات کو مزہ آیا اگر اس واقعہ کے حوالے سے کسی سے کچھ بھی کہا تو جان سے جاؤ گے۔

یہ بھی پڑھیں:جنگ ہو یا امن، ہجرت ہو یا قیام،تمام صورتوں میں اسلام کے وضع کردہ اصول رہتی دنیا تک مثال رہیں گے، علامہ ساجد نقوی

بچے نے کہا کہ قاری کی یہ بات سُن کر میں نے اگلے روز چُھٹی کے بعد ہی مسجد سے بھاگ کر اپنے گھر کا رُخ کیا اور سارا ماجرا اپنے والد کو سنا دیا۔ والد کے ہمراہ تھانے جانے پر اس واقعہ کی اطلاعی رپورٹ درج کروائی جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم قاری کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ قبل ازیں لاہور کے ایک مدرسے میں مفتی عزیز الرحمان کی بھی طالبعلم سے بد فعلی کی ویڈیو سامنے آئی تھی۔

اس طرح کے واقعات رپورٹ ہونے پر والدین بھی پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایسے واقعات پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے والدین نے قاری صاحباں اور مفتی صاحبان پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کو مساجد اور مدارس میں بھیجنے پر تحفظات رہیں گے ، اگر پولیس نے ایسے گھناؤنے واقعات میں ملوث افراد کو سخت سزائیں نہ دلوائیں تو وہ دن دور نہیں جب ہم اپنے بچوں کو مدارس میں بھیجنے کی بجائے گھر پر ہی دینی تعلیم دینے کو ترجیح دیں گے۔

12:51 شام اپریل 20, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔