14 رمضان المبارک ،آج فخرِ شیعیان حیدر کرارؑ مختار بن ابی عبید ثقفی کا یوم شہادت ہے

27 اپریل, 2021 13:42

شیعیت نیوز: فخرِ شیعیان حیدر کرارؑ مختار بن ابی عبید ثقفی، پہلی صدی ہجری قمری کے تابعین میں سے طائف کے رہنے والے تھے۔ آپ امام حسینؑ اور آپ کے باوفا اصحاب کے خون کا انتقام لینے کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ مسلم بن عقیل جب امام حسینؑ کے سفیر کے عنوان سے کوفہ آئے تو مختار نے انکی میزبانی کی لیکن حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کے وقت مختار عبید اللہ بن زیاد جو اس وقت کے کوفہ کا والی تھا، کے زندان میں قید تھے۔

مختار نے اپنے قیام کے ذریعے واقعہ عاشورا اور امام حسینؑ کے قتل میں ملوس بہت سارے مجرموں کو قتل کیا۔ بعض اس بات کے معتقد ہیں کہ ان کے قیام کو امام زین العابدینؑ کی تائید بھی حاصل تھی۔ مختار نے قیام کی کامیابی کے بعد کوفہ پر اپنی حکومت قائم کی اور 18 ماہ حکومت کے بعد مصعب بن زبیر کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ ان کی قبر مسجد کوفہ میں مسلم بن عقیل کی قبر کے ساتھ واقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شیخ رشید نے پاکستانی زائرین ِ ایران و عراق اور تاجروں کیلئے ایک اور خوشخبری کا اعلان کردیا

مختار ہجرت کے پہلے سال متولد ہوئےمختار کی بچپن کے زمانے کے بارے میں کوئی دقیق معلومات تاریخ میں ثبت نہیں ہے اور ان کے بارے میں جو معلومات ثبت ہے ان میں سے اکثر کا تعلق امام حسینؑ کا انتقام کی خاطر چلانے والی ان کی تحریک کے دوران سے ہے۔ اس لئے ان کی شخصی زندگی سے متعلق بہت ہی کم روایات نقل ہوئی ہیں۔

جنگوں میں شرکت
کہا جاتا ہے کہ مختار نے ۱۳ سال کی عمر میں جنگ جسر میں شرکت کی جسمیں انہیں اپنے والد اور تین بھائیوں سے ہاتھ دونا پڑا۔ کم عمری کے باوجود مختار اس جنگ میں میدان میں جانا چاہتے تھے لیکن ان کے چچا سعد بن مسعود نے انہیں اس کام سے روکے رکھا۔

مدائن کی زندگی
مختار کے چچا سعد بن مسعود جو حضرت علیؑ کی طرف سے مدائن میں گورنر منصوب ہوا تھا، نے خوارج کے ساتھ جنگ میں مختار کو مدائن میں اپنا جانشین مقرر کیا اور خود جنگ کیلئے نہروان کی طرف چلے گئے۔

قیام کے بعد ۱۸ ماہ کوفہ پر حکومت کرنے اور تین گروہ شام میں بنی امیہ، حجاز میں آل زبیر اور کوفہ کے سرداروں سے جنگ کرنے کے بعد آخر کار 14 رمضان سنہ ۶۷ ہجری قمری کو ۶۷سال کی عمر میں مصعب بن زبیر کے ہاتھوں قتل ہوا۔ مصعب کے حکم پر مختار کا ہاتھ کاٹ کر مسجد کوفہ کے دیواروں کے ساتھ کیل لگایا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں: فتنہ ، فساد، مذہبی منافرت پھیلانے والے مفتی منیب الرحمٰن کےخلاف سخت حکومتی اقدام سامنے آگیا

مختار کے بعد ان کے حامی جنکی تعداد 6000تھی اور مصعب کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے اور مصعب نے امان دینے کا وعدہ دیا تھا، وعدے کی مخالف کرتے ہوئے مصعب نے سب کو قتل کر دیا۔ مصعب کا یہ کام اتنا وحشت ناک تھا کہ جب عبداللہ ابن عمر نے اس سے ملاقات کی تو کہا کہ یہ 6000 ہزار کی تعداد اگر تمہارے باپ کی بھیڑ بکریاں بھی ہوتیں تو تب بھی اس کام کو انجام نہیں دینا چاہئے تھا۔

11:01 صبح مارچ 14, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔