ایران

تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، غلام حسین دہقانی

شیعیت نیوز: یورپی یونین اور بلجیم میں ایران کے سفیر غلام حسین دہقانی نے شام کے بحران کو فوجی مرحلے سے سیاسی مرحلے میں منتقل کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے داعش اور دیگر تکفیری گروہوں کی ممکنہ بحالی پر چوکس رہنے کی ضرورت پر تاکید کی ۔

یورپی یونین اور بلجیم میں تعینات ایران کے سفیرغلام حسین دہقانی نے برسلز میں علاقے اور شام کے مستقبل کی حمایت سے متعلق منعقدہ ایک ورچوئل اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام کے بحران کو 10 سال ہو گئے جس سے یہ تلخ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ عالمی برادری کو بین الاقوامی حقوق بالخصوص شام کی قومی سالمیت، خودمختاری اوراس بحران کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں : شہدا، خوف اور اندوہ سے امان کی بشارت دے رہیں، آیت اللہ سید علی خامنہ ای

غلام حسین دہقانی نے شام کے بحران کے سیاسی حل پر ایران کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ترکی اور روس کے تعاون سے آستانہ امن عمل کے فریم ورک کے اندر ہونے والی کوششوں کے ذریعے شام کے بحران کو فوجی طریقے سے حل کرنے کے بجائے سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی اورشام کی آئین ساز کمیٹی کی جانب سے انٹرا شام ڈائیلاگ کے انعقاد کی ایران نے بدستور حمایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 2اپریل تک ہمارے تمام شیعہ مسنگ پرسنز رہا نہ کئے گئے تو احتجاج کا دائرہ پورے ملک تک بڑھا دیا جائے گا، مرکزی صدر آئی ایس او

ایران کے سفیر نے شامی پناہ گزینوں کی انسانی وقار کیساتھ وطن واپسی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شامی تارکین وطن اور شام کی از سر نو تعمیر کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔

انہوں نے کورونا وبا کے پھیلاؤ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شام کو بیک وقت جنگ اورکورونا وائرس کے بحرانوں کا سامنا ہے جس سے شام کی از سر نو تعمیر اور انسان دوستانہ امداد کی اہمیت دوگنی ہوجاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button