شام: داعش کے ہاتھوں قتل ہونے والے ماہر آثار قدیمہ کی سربریدہ لاش مل گئی

09 فروری, 2021 15:35

شیعیت نیوز: شامی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ 2015ء میں داعش کے ہاتھوں قتل ہونے والے ماہر آثار قدیمہ کی سربریدہ لاش کو ڈھونڈ لیا گیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کی حکومت نے آثار قدیمہ کے عالمی شہرت یافتہ 82 سالہ ماہر خالد الاسد کی لاش ملنے کا دعویٰ کیا ہے، نوادرات کا ٹھکانہ نہ بتانے کی پاداش میں ماہر آثار قدیمہ کا 2015ء میں داعش نے سر قلم کر دیا تھا۔

ماہر آثار قدیمہ خالد الاسد تاریخی شہر پالمیرا کی حفاظت کی کوشش کر رہے تھے جبکہ داعش اُن سے قدیم اور قیمتی نوادرات کا مقام معلوم کرنا چاہ رہے تھے اور انکار پر قتل کر دیا۔

اس حوالے سے سرکاری میڈیا پر جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آثار قدیمہ کے ماہر کی لاش پالمیرا کے مشرق میں واقع کلاؤل سے دریافت ہونے والی تین لاشوں میں سے ایک ہے۔ اس مقام سے ملنے والی تینوں لاشوں کی شناخت کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : عراقی سکیورٹی فورسز نے صوبے نینوا سے 15 داعشی دہشت گرد گرفتار کر لیا

حکام کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ایک لاش خالد الاسد کی معلوم ہوتی ہے۔ خالد الاسد نے اپنی زندگی کے 50 سال سے زیادہ دمشق کے شمال مشرق میں واقع صحرا میں ایک نخلستان میں واقع تاریخی شہر پالمیرا کے لئے وقف کئے تھے۔ وہ 2003ء میں ریٹائرڈ ہوگئے تھے، تاہم داعش کے حملے تک اسی مقام پر موجود رہے تھے۔

خالد الاسد کے تین بیٹے اور داماد بھی آثار قدیمہ کے ماہرین ہیں، جو داعش کے حملے سے تھوڑی دیر قبل قریبی جدید شہر قصبہ تدمور کے میوزیم سے سیکڑوں قیمتی نوادرات لے کر دارالحکومت فرار ہوگئے تھے۔

اہل خانہ کے اصرار کے باوجود خالد الاسد نے علاقہ چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں پالمیرا سے ہوں اور میں یہیں رہوں گا، یہاں تک کہ جنگجو مجھے مار ڈالیں۔

7:01 شام مارچ 28, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔