یمن: جارح سعودی اتحاد کے ہوائی حملے ، 2 شہری شہید و زخمی

شیعیت نیوز: جارح سعوی فوجی اتحاد کے جنگی طیاروں کی جانب سے اتوار کے روز بھی یمن کے مختلف علاقوں پر ہوائی حملے جاری رکھے گئے۔
عرب نیوز چینل المسیرہ کے مطابق صوبہ مآرب کے علاقے ماہلیہ میں ایک گاڑی پر سعودی لڑاکا طیاروں کے حملے میں 1 یمنی شہری شہید جبکہ صوبہ الحدیدہ کے شہر التحیتا میں جارح سعودی فوجیوں کی فائرنگ سے 1 یمنی خاتون زخمی ہو گئی۔
جارح سعودی فوجی اتحاد کی جانب سے سرحدی شہر نجران کے علاقوں الربعہ الجاشر اور البقع پر بھی متعدد ہوائی حملے کئے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جارح سعودی فوجی اتحاد نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ الحدیدہ کے سیز فائر کی 157 بار خلاف ورزی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حرم رضوی ؑ پر عائد کی جانے والی امریکی پابندیاں دین مبین اسلام کی توہین ہے، حزب اللہ
دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیم ’’انتصاف‘‘ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں جارح سعودی عرب کے ہاتھوں ماری جانے والی یمنی خواتین و بچوں کے اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یمن پر مسلط کردہ سعودی جنگ میں تاحال 13 ہزار 82 یمنی خواتین و بچے شہید و زخمی ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اس جنگ میں تاحال 2 ہزار 392 خواتین اور 3 ہزار 796 بچے شہید جبکہ 2 ہزار 798 خواتین اور 4 ہزار 96 بچے زخمی ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران نے جوہری معاہدے کو زندہ رکھا ہے نہ تین یورپی ٹرائیکا ، جواد ظریف
دوسری جانب یمن کی سالویشن حکومت کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی امن و سیکورٹی اسی صورت میں قائم رہ سکتی ہے جب یمن اور یمنی عوام کو امن و سلامتی کے ماحول میں زندگی بسر کرنے دیا جائے گا۔
سبا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یمن کی سالویشن حکومت کے وزیرخارجہ ہشام شرف نے صنعا کی جانب سے سعودی عرب میں بعض اہداف کو نشانہ بنائے جانے کی ریاض اور بعض دیگر عرب ممالک کی جانب سے مذمت کرنے کے ارادے کے بارے میں کہا کہ جو لوگ اپنے جنگی طیارے یمن کے عام شہریوں کے قتل عام اور یمن کے شہروں اور دیہاتوں کو ویراں کرنے کے لئے بھیجتے ہیں انھیں صنعا سے گلدستے اور امن کا کبوتر بھیجنے کی توقع نہیں رکھنا چاہئے۔
یمن کے وزیرخارجہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ریاض بدستور دنیا کو دھوکے میں رکھنا چاہتا ہے اور یمن و ملت یمن کو تباہ و برباد کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، عالمی برادری سے یمن کے حالات اور جارح سعودی اتحاد کے اقدامات کے سلسلے میں بیدار رہنے اور آنکھیں کھلی رکھنے کا مطالبہ کیا ۔