ٹرمپ، اسرائیل اور سعودی عرب کے مفاد میں خطے میں بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں، یمن

شیعیت نیوز: یمن کی نیشنل سالویشن حکومت کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ علاقے کی صورت حال بحرانی کر کے اسرائیل اور سعودی عرب کو اس کا فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہشام شرف نے کہا ہے کہ خلیج فارس سمیت پورا علاقہ اس وقت امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پیدا کی جانے والی سیاسی و فوجی کشیدگی میں شدت کا مشاہدہ کر رہا ہے۔
یمن کے وزیر خارجہ نے کہا کہ بعض ممالک یمن کے دارالحکومت صنعا کو میدان جنگ بنا کر جارحیت و بحران کا پورا پورا فائدہ اسرائیل اور سعودی عرب کو پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : عیسائیوں کے لبادے میں چھپے صیہونیوں کا کراچی میں احتجاجی مظاہرہ ،پاکستان سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ
واضح رہے کہ امریکی وزات خزانہ نے جمعرات کے روز یمن کے خلاف واشنگٹن کے جارحانہ اور دشمنانہ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پانچ یمنی حکام کے خلاف پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ کے اس غیر قانونی اور جارحانہ اقدام پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے یمن کی اعلی انقلاتی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے ان پابندیوں کو امریکی دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے امریکہ کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں کے خلاف امریکہ کی خود سرانہ پابندیاں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ امریکہ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت عالمی نظام کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔
علی الحوثی نے کہا کہ عالمی سطح پر ایسا کوئی قانون نہیں پایا جاتا کہ جس کے تحت امریکہ کسی کے بھی خلاف اس طرح سے پابندیاں عائد کر سکے۔ یمنی حکام کے خلاف امریکہ نے ایسی حالت میں پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن، یمن کے خلاف وحشیانہ ترین جارحیت میں سعودی اتحاد کی بھرپور مدد و حمایت کرتا آیا ہے۔
جنوبی یمن کے ایک مقامی عہدیدار نے یمنی سواحل پر امریکہ اور برطانیہ کی سامراجی سازشوں پر سخت خبردار کیا ہے۔ فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صوبے لحج کے گورنر احمد حمود جریب نے کہا ہے کہ مشرقی یمن کے سواحل پر امریکہ اور برطانیہ کی بحری سرگرمیوں سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ یمن کو جارحیت کا نشانہ بنانے اور اس جارحیت کی حمایت کرنے والے سامراجی ممالک جنوبی یمن میں سازشیں رچنے میں مصروف ہیں۔
انھوں نے جنوبی یمن کے سواحل پر اغیار کی سرگرمیوں کو کھلی بین الاقوامی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یمن کی مستعفی حکومت کے سربراہ منصور ہادی نے جنوبی یمن کے صوبوں میں غاصب ملکوں کو مکمل طور پر راستہ فراہم کیا ہے تاکہ وہ جنوبی یمن میں فوجی مداخلت اور اپنے سامراجی منصوبوں پر عمل کر سکیں۔