فلسطین میں کورونا وائرس کے خطرات، ایک ماہ کی ایمرجنسی نافذ
شیعت نیوز: فلسطینی صدر محمود عباس نے شہروں میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے خطرات کے پیش نظر ایک ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ فلسطینی علاقوں میں 7 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
فلسطین کے علاقے الریحا سے لیبارٹریز کو بھیجے 52 افراد کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں اور ان میں کورونا کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے جب کہ بیت لحم میں سات افراد کے کورونا کا شکار ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : صیہونی فوج نے 3 فلسطینی بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف
وزارت صحت کی سفارشات اور بیت المقدس کے گورنر کی ہدایات کے بعد میں حکام نے بیت المقدس میں چرچ آف نیٹیوٹی کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بیت المقدس گورنری میں کورونا وائرس کے مشتبہ واقعات کے بعد وزارت صحت نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے بیت المقدس میں اسکولوں ، مساجد اور گرجا گھروں کو بند کرنے کی سفارش کی تھی۔
فلسطین کی سرکاری نیوز ایجنسی نے محکمہ صحت کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیت المقدس میں تمام تعلیمی اداروں اور تربیتی مراکز کو 14 دن کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام سرگرمیاں، سیمینارز، کانفرنسیں، سماجی پروگرامات اور کھیلوں کی سرگرمیاں بند کردی گئی ہیں۔
بیت المقدس کے علاوہ تاریخی شہر اریحا اور وادی اردن میں بھی ایمرجنسی نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ فلسطینی ہوٹلوں میں سیاحوں کو ٹھہرانے پر پابندی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزارت صحت نے کہا ہے کہ بیت المقدس گورنری کے ایک ہوٹل میں کورونا وائرس کے متعدد مشتبہ واقعات سامنے ہیں۔ وزارت صحت نے جمعرات کو ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ حکام کورونا ٹیسٹ کی رپورٹس کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔
ادھر ایک دوسری رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے کورونا وائرس کے شبے میں 50 ہزار افراد کی نقل وحرکت گھروں تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔







