حکومت کا حج پالیسی کی طرح زیارات پالیسی کا اعلان، وزراءاور شیعہ علماء کی بیٹھک

27 جولائی, 2019 17:14

شیعت نیوز : وفاقی وزارت مذہبی امور نے حج پالیسی کی طرح زیارات مقامات مقدسہ کیلئےزیارات پالیسی پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزراء اور شیعہ علما و عمائدین کاباضابطہ اجلاس وزارت مذہبی امور کے دفترمیں منعقدہوا۔

تفصیلات کے مطابق زیارات پالیسی کے تحت حج عمرہ کی طرز پر ٹوور آپریٹرز ماڈل برائے زائرین تیار کیا جائے گا، زیارات پالیسی کی حج 2019ء کے بعد کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔ وزارت مذہبی امور کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پالیسی مرتب کرنے کا فیصلہ وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کی زیر صدارت اجلاس میں ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری نے بھی خصوصی شرکت کی۔

اجلاس میں ایران اور عراق زیارتوں کی پالیسی کے خدوخال پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارت مذہبی امور نے بریفنگ دی۔ اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ زیارات میں حضرت امام رضاؑ، حضرت امام حسینؑ، امام عبدالقادر جیلانی، امام ابو حنیفہ، بہاالدین نقشبندی بخاری کے مزارات شامل ہیں۔

وزارت مذہبی امور کے حکام نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ سال میں تقریباً 6 لاکھ سے زائد زائرین ایران ،عراق جاتے ہیں۔ اس موقع پر پیر نور الحق قادری نے کہا کہ اس سال ایران، عراق زائرین کے لئے محرم سے قبل کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے کہا کہ امسال زائرین حج عمرہ کی مانند زیارات پر جائیں گے، حکومت زائرین کو مکمل سہولیات اور سکیورٹی فراہم کرے گی۔پالیسی کی تشکیل کے سلسلے میں شیعہ علماء کے ساتھ ملکر زیارات پالیسی مرتب کی جائے گی۔

اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئےعلامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ سب سے پہلے دوسرے صوبوں سے زیارت کیلیے جانے والے زائرین سے بلوچستان میں داخلے کیلیے این او سی کا قانون ختم کیا جائے، بلوچستان بھی پاکستان کا حصہ ہے اور اپنے ملک میں گھومنے کیلیے کسی این او سی کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ خبر بھی لازمی پڑھیں : تفتان کوئٹہ روٹ پر زائرین کو جانوروں کے ساتھ سفر کروانے اور اضافی کرایہ کی وصولی کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے تفتان تک 635 کلومیٹر کا راستہ ہے جس میں کسی قسم کی کوئی سہولت میسر نہیں، زائرین کو نماز، استراحت اور بیت الخلا کیلیے سہولیات فراہم کی جائیں

علامہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ کانوائے کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ زائرین کو کوئٹہ اور تفتان میں لمبے عرصے کیلیے قیام کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ میں موجود حاجی کیمپ کو زائرین کیلیے کھولا جائے کیونکہ حج کے علاوہ یہ پورا سال بند رہتا ہے۔

سربراہ مجلس وحدت نے کہا کہ بغداد میں موجود پاکستانی سفارتخانے کے عملے کو نجف یا کربلا مین تعینات کیا جائے تاکہ زیارات کے دوران جن زائرین کے پاسپورٹ گم ہوجاتے ہیں انہیں اپنے ملک واپس آنے کیلیے فوری دستاویزات فراہم کی جاسکیں۔

انہوں نے حکومتی نمائندوں سے کہا کہ جو لوگ تفتان بارڈر پر کیمپ لگانا چاہتے ہیں انہیں این او سی جاری کی جائے اورعراق میں موکب کیلیے دوائیاں لے جانے افراد کو سہولیات فراہم کی جائیں۔

اجلاس سے گفتگو میں شیعہ علما کونسل کے جنرل سیکریٹری علامہ عارف واحدی کا کہنا تھا کہ جو بھی پالیسی بنائی جائے اس میں اس بات کو مدنظر رکھا جائے کہ اکثر زائرین غریب طبقات سے تعلق رکھتے ہیں اور مہنگے ہوٹل افورڈ نہیں کر سکتے۔

زیارات پالیسی پر مشاورت کیلیے موجود شیعہ علما میں علامہ راجہ ناصر عباس، علامہ امین شہیدی، علامہ عارف واحدی اور غضنفر مہدی کے علاوہ پارلیمانی سیکرٹری جہانگیر آفتاب اور وفاقی سیکرٹری محمد مشتاق احمد نے شرکت کی۔

8:04 شام مارچ 30, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔