حکومت دوغلا پن چھوڑ دے، داعش ولشکرجھنگوی کے خلاف موثر حکمت علمی بنائے،قمر زمان قائرہ

19 اپریل, 2019 01:48

شیعیت نیوز: یپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان قائرہ نے ایک نجی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی روکنا ظاہر ہے حکومت اور ریاست کا کام ہے، لیکن موجودہ حکومت کی ترجیحات کچھ اور ہیں، ایک تو یہ ثابت شدہ بات ہے کہ کالعدم تنظیمیں ان کیلئے سب سے زیادہ اہم ہیں، جو دہشت گردی کرنیوالے گروہ ہیں، ان کے تعلقات کالعدم مذہبی جماعتوں سے موجود ہیں اور انکا قریبی تعلق موجودہ حکومت سے ہے، ایسی صورت میں ممکن نہیں کہ حکومت ان کارروائیوں کو روکنے کیلئے ضروری اقدامات کرسکے۔ ہمارا موقف بڑا واضح ہے کہ کالعدم تنظیموں کے متعلق موجودہ حکمرانوں کی دوغلی پالیسی دہشت گردی کا شکار ہونیوالوں کیساتھ ظلم اور زیادتی ہے۔ یہ دہشت گردی سے بڑا گناہ ہے، ساتھ ہی یہ بات موجودہ حکمرانوں کو سمجھنی چاہیئے کہ یہ عذاب انکے گلے پڑیگا۔ لیکن اس سے بھی بڑی مصیبت یہ ہے کہ موجودہ حکومت میں نااہلی کی وجہ سے کسی بھی قسم کے فیصلے نہیں ہو رہے۔ جس کی وجہ سے دہشت گردی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

جس کی وجہ سے مایوسی میں اضافہ ہوگا اور بے چینی کی نئی لہر پیدا ہوگی۔ اگر موثر اقدامات کے ذریعے اس کا تدارک نہیں کیا جاتا تو پاکستان پہلے ہی گرے لسٹ میں ہے، عالمی اداروں کو یہ بہانہ مل جائیگا کہ وہ پاکستان کیخلاف پابندیوں کا جال پچھائیں، اسی طرح یہ حالات ہمارے پڑوسی ممالک کیساتھ، بالخصوص ایران کیساتھ تعلقات کو منفی طور پر متاثر کرنیکی کوشش بھی ہے۔ ہر لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ پاکستان کے استحکام، پاک ایران تعلقات، عالمی اداروں کے دباؤ سے نکلنے کیلئے دہشت گردوں کیخلاف موثر کارروائی کی جائے، حکومت دوغلا پن چھوڑ دے، ورنہ داخلی اور خارجی سطح پر ہونیوالے تمام اثرات کے ذمہ دار موجودہ حکمران ہونگے۔ اب تو سب گروہوں نے دعوے کرنا شروع کر دیئے ہیں، لشکر جھنگوی، داعش اور قاری حسین گروپ سب یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ کارروائیاں وہ کر رہے ہیں، ان کیخلاف مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ قوم تو فوج اور حکومت کیساتھ ہے، لیکن ریاست کو کسی قسم کی لیت و لال سے کام نہیں لینا چاہیئے۔

11:42 صبح مارچ 31, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔