ہمیں توقع تھی کہ وزیراعظم خود کوئٹہ تشریف لاتے اور نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی طرح ایک مثال بنتی،علامہ ہاشم موسوی کا شہریار آفریدی سے شکوہ

15 اپریل, 2019 13:04

شیعیت نیوز: وفاقی وزیر داخلہ شہریارآفریدی کی امام بارگاہ ولی العصر کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ ہاشم موسوی نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم آپ کو اس ماحول میں خوش آمدید تو نہیں کہہ سکتے تاہم ہم یہاں آنے پر آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری توقع یہ تھی کہ عمران خان صاحب تشریف لاتے اور نیوزی لینڈ کے اس غیر مسلم وزیر اعظم کی طرح ہمارے لیے مثال بنتے۔‘انھوں نے کہا وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی سے توقع تھی اور اب بھی توقعات ہیں بشرطیکہ معاملات کو شفاف رکھا جاتا۔انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ان کے ڈھائی ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

علامہ ہاشم موسوی کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہلاک ہونے والوں میں ان کا اپنا بھتیجا بھی شامل ہے لیکن آٹھ دس سال گزرنے کے باوجود انہیں یہ معلوم نہیں کہ ان کے بھتیجے کا قاتل کہاں ہے اوراس کو سزا ہوئی ہے یا نہیں۔انھوں نے استفسار کیا کہ سزا اور جزا کے معاملات کو کیوں شفاف نہیں رکھا جاتا ہے۔علامہ ہاشم موسوی نے کہا کہ ’اگر سزا اور جزا کا شفاف نظام نہیں ہوگا تو لوگوں کے ذہنوں میں وسوسہ پیدا ہوگا اور لوگ نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال بھی کریں گے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ بتایا جائے کہ ہمارے قاتل کہاں بیٹھے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ کہ ’ماضی میں جو سیاسی غلطیاں ہوئی تھیں ان کی وجہ سے پاکستان دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے۔’ماضی کی غلطیوں کا آپ لوگ کسی حد تک ازالہ کر رہے ہیں لیکن جزا اور سزا کے نظام میں شفافیت لانی ہوگی،علامہ ہاشم موسوی نے کہا کہ ’کوئٹہ میں ایک شخص تھا، ہم نے چیخ چیخ کر کہا کہ اس بندے کو پکڑو یہ نفرت پھیلا رہا ہے۔ وہ شخص کچھ وقت کے لیے بند تھا لیکن ان کو دوبارہ چھوڑ دیا گیا جس کے دو تین روز بعد یہ واقعہ پیش آیا۔‘

علامہ ہاشم موسوی نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ایسے ممالک کے سربراہ جو پوری دنیا میں دہشت گردی کے فروغ میں ملوث ہیں جب وہ پاکستان کے دورے پر آتے ہیں اور ہمارے وزیر اعظم ان کا ڈرائیور بنتے ہیں تو پھر یہ حال ہوگا’،یاد رہے کہ جمعے کو ہونے والے خود کش حملے کے بعد ہزارہ قبیلے کے افراد اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے کارکنوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا اور مغربی بائی پاس پر ہزارہ ٹاؤن کے قریب دھرنا دیا جو اب بھی جاری ہے،بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے اس دھرنے کو ختم کروانے کے لیے مغربی بائی پاس جا کر شرکا سے ملاقات کی لیکن انھوں نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ اور اب وفاقی وزیرِ مملکت بھی کوئٹہ گئے ہیں۔

4:44 شام مارچ 27, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔