سعودی اور متحدہ عرب امارات کے شہری فوجی علاقوں سے دور رہیں، الحوثی
یمنی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے سعودی اور متحدہ عرب امارات کے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان تمام علاقوں سے دور رہیں جو یمنی فوج کے نشانے پر ہیں۔
الحوثی کا کہنا تھا کہ یمن انقلاب اور مزاحمت کے سربراہ نے بھی یہی کہا ہے کہ "میں تمام سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے شہریوں سے یہی کہونگا کہ وہ ان علاقوں سے دور رہیں جہاں فوجی تنصیبات ہیں۔”
خیال رہے کہ سعودی اتحادی افواج کے لڑاکا طیاروں نے صوبہ تعز کے رہائشی علاقوں اور ایک بازار پر شدید بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 100 نہتے یمنی شہری خاک و خوں میں غلطاں ہوگئے ہیں۔
الحوثی کا کہنا ہے کہ آل سعود کے اتحادی افواج کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا: "ہم عام رہائشی علاقوں کو نشانہ نہیں بناتے، ہم خاص اہداف پر میزائل فائر کرتے ہیں اگر کسی رہائشی مکان کو نقصان پہنچا ہو تو ہم خسارہ دینے کے لئے تیار ہیں۔”
واضح رہے کہ یمنی سرکاری فوج اور عوامی رضا فورسز نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر میزائل داغے ہیں جس کی وجہ سے سعودی شہریوں میں سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
یمنیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں کیے جانے والے میزائل حملے کا ہدف دارالحکومت ریاض میں واقع ایک شاہی محل تھا، اس سے قبل چار دسمبر کو یمنی سرکاری فوج نے ایک میزائل حملے میں ریاض کے الخالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ہدف بنایا تھا۔
واضح رہے کہ یمنیوں کا قاہر-2 نامی میزائل 400 کلومیٹر تک کے علاقوں کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا سکتا ہے۔
یمنی انسانی حقوق کے مرکز کے اعداد وشمار کے مطابق اب تک سعودی اتحادی حملوں میں 35ہزار 415 افراد شہید یا زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
یمن پر سعودی اتحاد کی وحشیانہ جارحیت کے نتیجے میں اس غریب عرب ملک میں غذائی اشیا، پینے کے صاف پانی اور دواؤں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔








