پاکستان کو کسی ایک فرقہ کا ملک نہیں بننے دیں گے، ناصر شیرازی کا بازیابی کے بعد اہم اعلان

03 دسمبر, 2017 13:13

شیعت نیوز:شیعہ رہنماء سید ناصرعباس شیرازی ایڈووکیٹ ایک ماہ کی جبری گمشدگی کے بعد بخیروعافیت بازیاب ہو گئے ہیں۔ بازیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید ناصر شیرازی کا کہنا تھا کہ ۲ سے ۳ گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے مجھے میری بیوی اور معصوم بچوں کے سامنے اغواء کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اغواء کرنے والے کس ایجنسی کے لو گ تھےمجھے نہیں پتہ مگر ان کا تعلق کسی نہ کسی ریاستی ادارے سے تھا۔ ناصر شیرازی نے کہا کہ دوران حراست مجھ سے وہ سوال پوچھے گئے جن کا نہ کوئی سر تھا نہ کوئی پیر۔ کوئی ایسا معقول سوال نہیں پوچھا گیا جس کا جواب دیا جاتا ۔انہوں نے کہا کہ اگر میرے خلاف کوئی بھی کیس تو اُسے عدالتوں میں لایا جائے۔ میں نے رانا ثناء اللہ کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی کہ وہ پاکستانی عدلیہ کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔ناصر شیرازی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کسی ایک مسلک یا فرقے کا ملک نہیں بننے دیں گے ۔ناصر شیرازی نے مزید بتایا کہ انہیں انتہائی تنگ و تاریک کمرکے میں رکھا گیا اور عقوبت خانہ بھی تبدیل کیا گیا ۔ واضح رہے کہ ناصر شیرازی کے اغواء کے بعد شیعت نیوز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ناصر شیرازی پر تشدد کیا جارہا ہے اور سوشل میڈیا پر خبر جاری ہونے کے بعد انکا عقوبت خانہ بھی تبدیل کردیا ہے۔

5:17 صبح مارچ 23, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔