الحشد الشعبی حکومت اور مراجع کرام کی سرپرستی میں باقی رہے گیا، نوری المالکی
شیعت نیوز ؛عراق کے نائب صدر نوری المالکی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے تحفظ اور اس کی حمایت کو کامیابی کے حصول سے زیادہ دشوار بتایا اور کہا کہ آئندہ کا مرحلہ اس بات کو ثابت کرے گا کہ الحشد الشعبی کو ریزو فورس کے تحت باقی رکھنا اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی رضاکار فورس کے خلاف ملک کے اندر اور باہر سے ہونے والی سازشوں کے مقابلے میں ہم الحشدالشعبی کے ساتھ ہیں اور اس فورس کو ہر حال میں باقی رکھا جائےگا۔
نوری المالکی کا کہنا تھا کہ الحشد الشعبی نے تمام میدانوں میں اپنی کامیابیوں کا لوہا منوایا ہے۔
عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے بھی گذشتہ پانچ اگست کو بغداد میں ایک سمینار میں کہا تھا کہ الحشد الشعبی حکومت اور مراجع کرام کی سرپرستی میں باقی رہے گی اور اسے کسی بھی صورت میں تحلیل نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ الحشدالشعبی عراقی عوام کے مختلف طبقوں کے نوجوانوں پر مشتمل ایک عوامی رضاکارفورس ہے جو عراق پر داعش کے حملے کے بعد مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سیستانی کے فتوے کے تحت تشکیل پائی تھی اور آج عراق کے مختلف علاقے منجملہ موصل شہر اسی فورس کے بنیادی کردار کی بدولت ہی آزاد اور عراق میں داعش کا کام تمام ہوا ہے۔
عراقی پارلیمنٹ نے بھی چھبیس نومبر دوہزار سولہ کو واضح اکثریت کے ساتھ الحشد الشعبی کو ملک کی مسلح افواج کا حصہ قراردے کر اس کو باضابطہ سرکاری فورس میں شامل کرلیا تھا۔








