آیت اللہ اعرافی کا تہران اور قم کے عوام کے لیے خراجِ تحسین: "شہید رہبر کی تشییع انقلاب کی تاریخ کا سنہری باب ہے”
شیعیت نیوز : مدیر حوزہ علمیہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے تہران اور قم میں رہبر شہید (رہ) کے جنازے اور تشییع میں عوام، مراجع تقلید، علماء اور ملت ایران کی پرجوش اور باوقار شرکت پر دو علیحدہ پیغامات میں خراج تحسین اور تشکر پیش کیا ہے۔
تہران کے عوام کے لیے خراج تحسین کا پیغام
بسم اللہ الرحمن الرحیم فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِینَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَی الْقَاعِدِینَ دَرَجَةً ۚ وَکُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَیٰ ۚ وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ أَجْرًا عَظِیمًا
تہران کے بصیر، انقلابی اور سرافراز عوام؛ انقلاب اسلامی کے دارالحکومت میں ہمہ وقت منظر عام پر موجود رہنے والے جوانو؛
حضرت ولی عصر (ارواحنا فداہ) کی خدمت میں درود و سلام اور آل اللہ کی عزاداری اور عظیم رہبر، مجاہد، حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) اور عظیم شہداء کی شہادت کے ایام پر تعزیت پیش کرتا ہوں۔
تہران، عالم اسلام کے "ام القریٰ” نے ایک بار پھر انقلاب اسلامی کی تاریخ کے حساس ترین ادوار میں اپنی تاریخی ذمہ داری نبھائی اور رہبر شہید (رہ) اور عزیزِ ملت کے پاکیزہ پیکر کے جنازے اور تشییع میں بابصیرت، باوقار اور پر صلابت شرکت کے ساتھ ایمان اور غیرت کی ایک یادگار تخلیق کی۔
آپ تہران کے عظیم لوگ، بوڑھے اور جوان، مرد اور عورت، مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے، یونیورسٹی کے اساتذہ، ممتازین اور علماء نے اپنی کروڑوں کی تعداد میں اس شہر کی سڑکوں پر موجودگی کے ذریعے "امت اور امامت” کے اٹوٹ بندھن کو دنیا والوں کے سامنے پیش کیا اور انقلاب اسلامی کے عظیم آرمانوں اور رہبر معظم حضرت آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای دامت برکاتہ سے تجدیدِ بیعت کی۔
یہ بھی پڑھیں : قم المقدسہ میں شہید رہبر کی نماز جنازہ ادا، تشییع جنازہ حرم معصومہؑ کی طرف رواں
ایران اسلامی کے دارالحکومت میں لوگوں کا یہ شوروشوق سے بھرا سمندر، نہ صرف ولایت سے بیعت کا مظہر تھا بلکہ ایک بلند اور دشمن شکن نعرہ تھا جس نے اس سرزمین کے جارحوں اور بدخواہوں کے اعضاء میں لرزہ پیدا کر دیا۔ آپ سب نے ثابت کر دیا کہ تہران، بصیرت اور مقاومت کا مرکز ہے اور امامین انقلاب اور شہداء کے راستے کو جاری رکھنے میں کوئی تذبذب نہیں رکھتا۔
قم کے عوام اور حوزہ کے لیے خراجِ تحسین
بسم اللہ الرحمن الرحیم وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ
قم کی شریف عوام اور عزیز نوجوانو! علماء کرام اور حوزویان گرامی!
آپ سب کی خدمت میں سلام اور احترام اور سالارِ شہیدان علیہ السلام کی عزاداری اور رہبر و امام شہید (رہ) اور عظیم شہداء کی شہادت کے ایام پر اظہار تعزیت پیش کرتا ہوں۔ آپ اہل قم نے ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے دینِ اسلام کے پرچم تلے کھڑے ہو کر افتخار پیدا کیا ہے اور خاص طور پر پچھلی ایک صدی میں مرجعیت اور ولایت کے ساتھ مل کر اپنی قدر شناسی، قربانی، ایمان اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔
عوام، نوجوانوں، خواتین، مردوں، مختلف پیشوں سے وابستہ افراد، طلباء، فضلاء، علماء، بزرگان، مراجع عظام اور حوزہ و یونیورسٹی کے ممتازین کی شوروشوق سے بھری لہروں نے قم اور انقلاب اسلامی اور حوزہ علمیہ کی تاریخ میں ایک عظیم اور عاشورائی حماسہ تخلیق کیا ہے اور دوہرا افتخار حاصل کیا ہے۔







