اُ س فرزند زہرہ (س) پر سلام کہ جس کے سبب کربلا اور دمشق کی پرامن زیارت نصیب ہوئی
شیعت نیوز:اس دفعہ پھر کربلا میں اربعین امام حسینؑ کے موقع پہ کڑوڑوں زائرین امام حسینؑ کی شرکت اوردمشق میں حرم سیدہ زینب سلام اللہ علیہا میں چہلم کہ موقع پہ غم خوران اہلبیتؑ کی شرکت دیکھی تو بے ساختہ لبوں پہ اس سید حسینیؑ کے لیے دعا نکلی کہ جس نے عصر حاضر کی کربلا میں مولا حسینؑ اور امام وقت سے کیا اپنا عہد و پیمان نبھایا اور حرمین اہلِ بیت علیہ السلام پہ کوئی آنچ نہ آنے دی ۔ جی ہاں ! یہ سید علی خامنہ ای ہی ہیں جنہیں یہ اعزاز و افتخار حاصل ہے کے جس نے اس زمانہ میں نصرتاہلِ بیت علیہ السلام کا شرف حاصل کیا۔ جب امریکہ و سعودی نمک خوار داعشی دشت گرد شام کہ اہم علاقوں میں قابض ہونے کہ بعد عراق کہ اہم علاقوں موصل ، تکریت کہ بعد بغداد اور پھر نجف و کربلا پہ حملہ آورہونا چاہتے تھے اور داعش کہ ایک لعین ” عبد اللہ الترکی نے اس بات کا اعلان کیا کے ہم بغداد کہ بعد نجف جائیں گے اور ( معاذ اللہ ) مولاعلی ؑ کی قبر اطہر کو کھود کر اس سے مہدی (عج) کو نکالیں گے اور قتل کردیں گے ” لیکن وہ کون تھا کہ جس نے داعش کہ بڑھتے قدموں کو روکا اور اسکو واصل جہنم کردیا؟ ۔ وہ کون تھا کہ جس نے روضہ شہزادی زینب سلام اللہ علیہاا ور شہزادی رقیہ آلمعروف سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا کے روضوں کی شام میں حفاظت کی اور کسی ظالم و شقی کو موقع نہ دیا کہ اس کربلائے عصر میں خانوادہ عصمت و طہارت اہلِ بیت رسولؐ کے مبارک روضوں پہ حملہ آور ہوسکے۔سید علی خامنہ ائ اس شخصیت کا نام ہے کہ جس کےجرأت مندانہ فیصلہ کے سبب آج کڑوڑوں زائرین بلا خوف و خطر اپنے سفر عشق کو انجام دے رہےہیں ۔۔ آئیے آج ہم سب مل کر اس غلام حیدر ؈ کا شکریہ ادا کریں ، اور دعا کریں کے خداوند ہ سید حسینی کی عمر کو طول دے اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھےکہ جس نے ان یزیدیوں کہ عزائم کو ناکام بنا کر اس کربلا عصر میں ہم سب کو شرمندہ ھونے سے بچا لیا ۔ اے سید علی خامنہ ای آپکو ہمارا سلام ۔۔ اے فرزند زھرا (ع) آپکو ہمارا سلام و دعائیں کہ آپ نے اس کربلائے عصر میں صدائےہل من ناصر پہ جواب دیا اور یزیدیوں کی جسارت کو خاک میں ملا دیا ۔








