پاکستان میں دہشتگردی کا خطرہ، دیوبندی طالبان کے 14 خودکش بمبار کے داخلہ کی اطلاع
شیعیت نیوز: خفیہ اداروں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے صوبہ کنہار میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان کا ایک اہم اجلاس اگست کے آخری عشرے میں ہوا جس میں تحریک طالبان نے دیگر دہشتگرد تنظیموں کے ذمہ داران کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ پاکستان اور افغانستان میں غیر ملکی سفارت خانوں سمیت حساس مقامات پر بیک وقت دہشتگردی کی کارروائیاں کی جائیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوں۔ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق اس حوالے سے خفیہ اداروں نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اس مقصد کیلئے 22 خودکش حملہ آوروں کو تیار کیا گیا ہے جن میں 14 پاکستان اور 8 افغانستان بھجوائے گئے ہیں، جو پاکستان اور افغانستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ جن کا ٹارگٹ امریکی قونصل خانے، چائنیز قونصل خانے اور ایسے پراجیکٹ جن پر چائنیز کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے، تعلیمی ادارے، ہسپتال، امام بارگاہیں، مزارات، اقلیتوں کے مذہبی مقامات شامل ہیں، لہٰذا تمام صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ سکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے اور غیر ملکیوں کی غیر ضروری سرگرمیوں کو محدود کیا جائے۔








