علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا مشرق وسطیٰ و عالمی کی تازہ صورتحال پر تبصرے سے اقتباس
شام پر امریکی جارحیت کے بعد کھلنے والے حقائق
الف:امریکہ اب ایک سپر پاور نہیں رها بلکہ اندرونی طور پر مختلف تضادات کا شکار نظام هے ۔
وہ ممالک (ترکی،سعودی عرب، قطر،امارات وغیرہ )جنہوں نے کمزور امریکی رسی کو تھاما هوا هے، نہ تو اس کے سہارے اپنی کمزور کو دور کر سکتے هیں اور نہ هی کمزور امریکہ انہیں حتمی شکست سے بچا سکتا هے۔
ب:روس ایک بڑے مرکز اور محور کی شکل میں آج کی (متزلزل ) دنیا میں سامنے آیا هے ایک ایسا مضبوط اور طاقت ور عالمی ستون جو دوسرے ممالک (حکومتوں ) اقوام اور معاشروںکااحترام کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی قوانیں کی بھی پابندی کرتا هے ۔
روس دوسرے ملکوں کیخلاف ہونے والی جارحیت کی مذمت کرتا هے اوراسےروکنے کے لئے باقاعدہ اقدامات کرتا هے جیسا کہ حالیہ امریکی جارحیت کے مقابلے میں روسی stand واضح اور عیاں ہے ۔
ج:.کئی ایک ممالک چین،برازیل، بولیویا ،انڈونیشیا وغیرہ کی حکومتیں جارح امریکہ ،اور جارحیت کے خلاف هیں ،اس بات کا قوی امکان هے کہ آیندہ ایک بہت بڑا عالمی الائنس روس اور ایران کے ساتھ ملکر وجود میں آئے جو یورپین الائنس اور اسکے نفاق ،جھوٹ اور مکر و فریب کومزید نمایاں کرے گا۔
یہ حقیقت مزید واضح ہوکر کھل جائے گی کہ امریکہ کی سرپرستی میں موجود الائنس دنیا میں بسنے والی اقوام اور معاشروں کا’’ دشمن الائنس ‘‘اور بلاک هے۔
د:شام اور اسکے اتحادیوں کی 6 سالہ استقامت، مقاومت اورصبر آخر کار عالمی استکباری قوتوں اوران کے تکفیری ایجنٹوں پر مکمل غلبہ دلائے گی یہ ایک حتمی بات اور یقینی بات ہے ۔
امریکی اسٹیبلشمنٹ کا شام اور دنیا کے دوسرے ممالک بارے کنفیوژن کا شکار هونا سب کے سامنے واضح هے
امریکہ کا دنیا پر مسلط ہونے اور حکمران بننے کا دور اصل میں ختم هو چکاہے ،اگر کوئی باریکی سے غورکرے
تو اسے اس چیز کی نشانیاں واضح طور پر دیکھائی دینگی ۔
وهابیت اپنی survival کے لئے امریکہ اور اسرائیل پر تکیہ لگانے کے باجود دن بدن زوال کا شکار هے ،لهذا 39 ممالک کا سعودی، صیہونی امریکی الائنس بھی بظاهر وهابیت کی سپورٹ کے لئے ہی بنایاجارہا ہے۔
امام کعبہ کا پاکستان آنا مختلف تکفیری گروهوں اور سیاسی لوگوں سے ملاقاتیں در اصل پاکستان کوکسی بھی حال میں اس الائنس میں لے جانے اور سعودیوں کے اسٹریٹیجک ساتھیوں کو اکھٹا کر کے انہیں سیاسی طور پر طاقت ور بنانے کے لئے هے ۔
پاکستان آل سعود کی تزویراتی گہرائی هے ،انہوں نے پاکستان کو هر حال میں اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش کرنی ہے ،لیکن اس وقت بظاهر آل سعود کا اهم پارٹنر پانامہ لیکس اورڈان لیکس کی وجہ سے مشکلاٹ کا شکار هے ،لهذا دتکفیری و دیگرشدت پسند مذهبی گروهوں کا منتشر رهنا سعودی مفادات کے لئےنقصان دہ هے ۔
سوال :ایک خیال یہ ہے کہ امریکہ اپنی طاقت کی بقا کے لئے مجبور ہے کہ کچھ جنگیں لڑے؟
جواب :یہ صحیح بات ہے ،اور اس موضوع پر توجہ دینے کی ضرورت ہے
سوال :کیا پاکستان امریکی نشانے پر ہے ؟
جواب :امریکی بہت کچھ چاهتے هیں ،لیکن کیا وہ جوکچھ چاهتے هیں وہ سب کر بھی سکتے هیں ؟وہ گزشتہ 6 سال سے چاهتے هیں کہ بشار الاسد کی حکومت نہ رهے کیا وہ کرپائے ؟
ایران میں اسلامی انقلاب کا خاتمہ انکی دیرینہ آرزو لیکن ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ هو سکا
سوال:کیا پاکستان کے امریکی بلاک سے الگ ہونے کی کوئی صورت نظر آتی ہے؟ اگر ہے تو اس کے کیا عوامل اور کیا کاوشیں ہو سکتی ہیں؟ورنہ کیا ہم بھی اسی ڈوبتی کشتی کے سوار رہیں گے؟
جواب:آنے والے دنوں میں روس میں علاقائی سیکورٹی کے اجلاس کا انعقاد ،جس میں امریکہ نے شرکت سے انکار کیا هے ،پاکستان کی شرکت اور وهاں هونے والے فیصلوں پر پاکستان کی رضامندی بہت اهم هے۔
یہ اجلاس امریکی کے علاقائی عزائم کے خلاف هو گا،امریکی،سعودی دباؤ کی وجہ سےابھی تک پاکستان نے شام پر امریکی حملے کی مذمت نہیں کی،پاکستان کو سعودی الائنس میں لے جانا امریکی،اسرائیلی لائن هے۔
اس سے پاکستان south asia اور central asia میں هونے والے یجنل متغیرات اور developments سے دور هو جائے گا ،نتیجتاً اس ریجن میں مشکلات پیددا ہونگی اور پاکستان مزید کمزور هو گا۔
پاکستان میں اندرونی تقسیم اور بڑهے گی ،پاکستان معاشرہ مزید اندرونی اختلافات کا شکار هو گا،جس کا ultimately فائدہ امریکہ اور اسرائیل اور انکے allies کو هو گا،جبکہ ساؤتھ ایشیا اور یہ سارا ریجن suffer کرے گا۔
کاش پاکستان کے حکمران وطن دوست هوتے ،ویژنری هوتے اور انہیں کوئی سوجھ بوجھ هوتی ،وطن اوراہل وطن کے نفع نقصان کی انہیں فکر هوتی اور ہماری اسٹیبلشمنٹ دینار اور ریال کے زهر قاتل سے اپنے آپ کو بچا پاتے ،اور یوں آل سعود کی ڈوبتی کشتی میں سوار نہ هوتے۔
فاعتبروا یا اولی الابصار