(رائٹ ٹو انفارمیشن) بل 2017 منظور ہوگیا، لاپتہ افراد کی معلومات تین دن میں فراہم کرنا ہوگیں
شیعیت نیوز: سینیٹ سلیکٹ کمیٹی نے معلومات تک رسائی(رائٹ ٹو انفارمیشن) بل 2017 کی متفقہ منظوری دیدی۔بل کے تحت لاپتہ افراد کی معلومات 3؍ دن میں، 20؍ پرانا ریکارڈ عام کرنا ہوگا، جان بوجھ کر ریکارڈ ضائع کرنے پر تعزیراتی کارروائی ہوگی۔ بل حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا جبکہ کمیٹی کے چیئرمین کا تعلق اپوزیشن جماعت سے ہے ،کمیٹی میں تمام جماعتوں کی نمائندگی موجود تھی۔ اجلاس میں تمام شقوں پر بحث کی گئی تجاویز کو بھی شامل کیا گیا،تمام ترامیم اور تجاویز باہمی متفقہ طور پر منظور کی گئیں جس میں حکومت نے بھی تعاون کیا، بل کے ذریعے3 رکنی انفارمیشن کمیشن کے ارکان کا تقرر وزیراعظم کرینگے،کمیشن کا ایک رکن عدلیہ، ایک بیوروکریسی اور ایک سول سوسائٹی سے لیا جائیگا،کمیشن کے کسی رکن کی عمر 65 سال سے زائد نہیں ہوگی،کمیشن کے ممبران کو ہٹانے کا اختیار قومی اسمبلی اور سینٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے پاس ہوگا،انفارمیشن کمیشن کے ممبران کی تقرری اور اختیارات اور جان بوجھ کر ریکارڈ کو ضائع کرنے کے حوالےسے تعزیراتی کارروائی ہوگی، وہ تمام ریکارڈ جو 20 سال سے زیادہ پرانا ہو، ان پر آر ٹی آئی قانون کا اطلاق نہیں ہوگا،20 سال پرانا ریکارڈ ہر صورت منظر عام پر آئے گا،کسی بھی لاپتا شخص کی معلومات متعلقہ ادارہ 3 دن میں تحریری طور پر جواب دینے کا پابند ہوگا،کسی بھی ادارے میں بدعنوانی اور قواعد کی خلاف ورزی پر اس ادارے سے وابستہ کوئی بھی شخص نشاندہی کرسکے گا،نشاندہی کرنے والے شخص کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا اور اس کیخلاف قانونی کارروائی نہیں ہوسکے گی۔ سینیٹ سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹرفرحت اللہ بابر کی صدارت میں پپس کانفرنس ہال میں ہوا۔ فرحت بابر نے کہا کہ معلومات تک رسائی کے بل کا کمیٹی کے گزشتہ تین اجلا سو ں میں شق وار تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اس بل کی تیاری میں وزارت اطلاعات نے بھرپور تعاون کیا اور کوشش کی گئی ہے کہ بل کو زیادہ سے زیادہ موثر بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام مستفید ہوسکیں۔ یہ بل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اور انسانی حقوق کے معاملات میں اس سے بہت مدد حاصل کی جاسکے گی اجلاس میں سینیٹرز شبلی فراز، محمد جاوید عباسی ، پرویز رشید ، مظفر حسین شاہ، خوش بخت شجاعت ، کریم احمد خواجہ اور محمد داؤد اچکزئی کے علاوہ وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب اور وزارت اطلاعات و قانون کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ فرحت بابرنے کہاکہ اس بل سے عام آدمی کو معلومات تک زیادہ سےزیادہ رسائی حاصل ہوسکے گی۔ جن معلومات کو استثنیٰ ہوگا اس کے حصول کیلئے اپیل کی جاسکے گی، اپیلٹ باڈی حکومت کے اثر سے آزاد ہوگی، کرپشن اور بنیادی انسانی حقوق کے معاملے میں قومی سلامتی کی آڑ نہیں لی جاسکے گی۔