مظفرآباد:2009 محرم کے جلوس میں ہونے والے دھماکہ کے سہولت کار گرفتار
شیعیت نیوز: آزاد جموں کشمیر پولیس نے بدھ کے روز ۳ دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن پر ۲۰۰۹ میں مظفرآباد میں عزاداری کے جلوس پر حملے کی سہولت کاری کرنے کا الزام ہے۔
ذرائع کے مطابق ان سہولت کاروں کا تعلق کالعدم اہلسنت و الجماعت سے بتایا گیا ہے۔
ایڈیشنل پولیس سپریڈنٹ کشمیر آصف دورانی نے دیگر پولیس اہلکاروں کے ہمرا ہ پریس کانفر نس میں کہا کہ گرفتار دہشتگردوں نے ۹ محرم کے جلوس میں حملہ کرنے والے خودکش بمبار کو ٹرانسپورٹ اور رہائشی مہیا کی۔
تفصیلات کے مطابق مظفرآباد شب عاشور مرکزی امام بارگاہ پیر سید علم شاہ بخاریؒ میں ہونیوالے خود کش حملے میں ملوث تین مرکزی ملزمان گرفتار
امام بارگاہ پیر علم شاہ بخاری میں 9 محرم کی شام 28 دسمبر 2009 کو خودکش دھماکہ میں 9 افراد کی شھادت ہوئی اور 54 افراد زخمی ہوے۔،اس کے چند دن بعد پولیس نے چروٹہ سے چوہدری شفیق نامی نوجوان کو گرفتار کیا جو دوران حراست جاں بحق ہوگیا۔
آزاد کشمیر پولیس کے ایڈیشنل ایس پی آصف درانی نے دیگر پولیس آفیسران کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ 9 محرم کے دھماکہ کے مرکزی ملزمان ملک محمد اشفاق(سریاں
مظفرآباد)،محمد خاقان( ہٹیاں بالا )،عمر فاروق شاہ( نیلم ویلی) کو گزشتہ دنوں گرفتار کر لیا گیا ہے۔تینوں ملزمان پرخودکش ملزم کو امام بارگاہ تک پہنچانے اور انھیں اپنے پاس ٹھرانے کا الزام ہے اور تینوں کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے ہے مگر انھوں نے تنظیم کا نام نہیں بتایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک اشفاق دھماکے کے بعد اپنے خاندان کو شمالی وزیرستان لے گیا تھا۔
پولیس آفیسرسید وحید گیلانی کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کا آزاد کشمیر میں نفاذ ہو چکا ہے۔ایک بینچ راولاکوٹ اور ایک مظفرآباد میں کام کر رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں دہشت گردی کا نیٹ ورک شامل خان نامی شخص جو دھیر کوٹ کا رہاشی ہے چلا رہا ہے۔ملک محمد اشفاق اس کا قریبی ساتھی ہے اب شامل خان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔