مقالہ جات

فیس بک سے سانحہ پاراچنار تک

تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

جرم جیسا بھی ہو، مجرم کو سزا ملنی چاہیے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مجرم قرار دینے کا اختیار کس کے پاس ہے۔ کیا مولوی حضرات کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جسے چاہیں مذہب کا دشمن قرار دے کر قتل کروا دیں!؟ کیا سیکولر اور لبرل حضرات کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ جسے چاہیں مذہبی شدت پسند کہہ کر تنگ نظر اور بیک ورڈ قرار دے دیں!؟ کیا فوج اور پولیس کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ جسے چاہیں، اسے غدار اور ملک دشمن قرار دے کر ٹھکانے لگا دیں!؟ دنیا کے ہر مہذب ملک میں مجرم اور سزا کا تعین عدالتیں کرتی ہیں۔ اگر کہیں ماورای عدالت لوگوں کو مارا جانے لگے یا پھر عدالتوں سے من پسند فیصلے کروائے جانے لگیں تو پھر ایسی عدالتیں اپنا اعتماد کھو دیتی ہیں۔ جس ملک میں عدالتوں کا اعتماد نہ رہے، وہاں دیگر ادارے بھی اپنا احترام کھو دیتے ہیں۔

گذشتہ کچھ عرصے سے وطن عزیز میں لوگوں کے لاپتہ اور گم ہونے کا سلسلہ ایک فیشن کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس میں کوئی مذہبی اور غیر مذہبی کی تفریق نہیں، کچھ لوگوں کو مذہبی شدت پسند اور کچھ کو مذہب دشمن قرار دے کر لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔ کسی کو تقریر کرنے کے جرم میں اور کسی کو فیس بک پیجز چلانے کی آڑ میں دھر لیا جاتا ہے۔ انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد چاہے جتنے بھی بڑے گنہگار ہوں، انہیں باقاعدہ طور پر عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے اور ان کے گھر والوں کو ہراساں کرنے کے بجائے انہیں اپنے عزیزوں سے ملاقات کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔

یاد رکھئے! جب سرکاری ادارے اپنے آپ کو قانون سے بالاتر تصور کرتے ہیں، عوام کے مشوروں کو نہیں سنتے، عوامی مخالفت و تنقید کو برداشت نہیں کرتے اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں تو پھر سانحہ پارا چنار جیسے حادثات پیش آتے ہیں۔ سانحہ پارا چنار اتنا دلخراش سانحہ ہے کہ اس پر ترکی کے صدر اور وزیراعظم سے بھی خاموش نہ رہا گیا۔ انہوں نے بھی اس سانحے کی مذمت کی ہے۔ اس سانحے کی جتنی بھی مذمت کی جائے، وہ اپنی جگہ ضروری ہے، البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ کوئی غیر متوقع سانحہ نہیں تھا۔ گذشتہ روز پارا چنار میں ہونے والا دھماکہ ایک متوقع حادثہ تھا۔ دراصل حلب اور موصل میں شدت پسندوں کی پسپائی کے بعد یہ امکان موجود تھا کہ شدت پسند پاراچنار کا رخ کریں گے۔ مقام افسوس ہے کہ اس دوران حکومتی اہلکاروں نے شدت پسندوں کا راستہ روکنے کے بجائے مقامی لوگوں کو غیر مسلح کرنے کے لئے زور لگانا شروع کر دیا۔ اگر سرکاری ادارے مقامی لوگوں سے الجھنے کے بجائے ان سے مل کر حفاظتی مسائل کو آگے بڑھاتے تو ایسی صورتحال کبھی بھی پیش نہ آتی۔

عوام سے محبت، عوامی امیدوں کا لحاظ، عوامی تنقید کا احترام، عوام سے روابط یہ ساری چیزیں خود حکومتی اداروں کے مفاد میں ہوتی ہیں۔ سانحہ پارا چنار کے بعد پاکستانی آرمی چیف نے فوراً پاراچنار کا دورہ کرکے اپنی عوام دوستی کا ثبوت دیا ہے۔ ان کے اس دورے سے جہاں انہیں صورتحال کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا ہے، وہیں پاراچنار کے مقامی لوگوں کو بھی یہ پیغام ملا ہے کہ پاکستان آرمی کے دل میں ہماری محبت اور ہمدردی موجود ہے۔ یہ دورہ اپنی جگہ قابل ستائش ضرور ہے، تاہم اس کا حقیقی فائدہ تبھی ہوگا، جب آرمی چیف کے ماتحت ادارے بھی عوامی احترام کو یقینی بنائیں گے۔ کسی بھی منطقے کے حقیقی محافظ اس کے مقامی لوگ ہی ہوتے ہیں، لہذا پارا چنار کے مسائل میں وہاں کے مقامی لوگوں کی رائے، رسوم و رواج اور حقوق کو ہر حال میں مقدم رکھنا چاہیے۔ اگر ہمارے سرکاری ادارے عوم سے اپنے فاصلے کم کر دیں، عوامی مسائل اور آرا کو اہمیت دیں، اختلاف رائے کو برداشت کریں تو انہیں کہیں پر بھی عوام سے الجھنے اور فیس بک پیجز چلانے والوں کو گم اور لاپتہ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ یہ سب کچھ اسی صورت میں ہوتا ہے، جب کچھ سرکاری اہلکار اپنے آپ کو قانون اور عدالت سے برتر تصور کر لیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button