پاکستان

یمن کی سمندری حدود میں سات پاکستانی شہید،حکومت, دیوبندی اور زرائع ابلاغ خاموش

شیعیت نیوز: ایک طویل عرصہ کے بعد پاکستانی میڈیا کو اپنے ہم وطنوں کے جہاز پر حملے کی اطلاع مل ہی گئی اورپاکستانی حکام سمیت پاکستانی میڈیا کویمنی ساحل المخاکے قریب تجارتی جہاز پر سعودی طیاروں کے حملے کے نتیجہ میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی عملے کے بارے میں معلومات اکھٹی کرتے کرتے 17دن لگ گئے ۔

جب اس حوالے سے 7دسمبر کو دفتر خارجہ کی بریفنگ کے دوران پاکستانی عملے کے سلامتی کے بارے معلومات کے لئے سوال کیا گیاتھا تو اس وقت دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کے بارے میں ابھی ہم معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے جب کہ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ای میل بھی اس سوال کا تذکرہ موجود ہے ۔

آج پاکستان کے معروف نیوز چینل نے اسی جہاز پر گزشتہ روز راکٹ حملے میں تباہ ہونے کی22دسمبر کو بریکنگ نیوز دی لیکن یہ واقعہ ہوئے کم از کم17دن گزر چکے ہیں جب کہ یہ بتانے کی بھی ہمت نہیں جوت پائے کہ اس جہاز پر حملہ کس نے کیا تھا۔

حیرت ناک بات یہ ہے کہ اس جہاز پر حملہ آور سعودی عرب کو اپنے دوست اور دشمن میں تمیز کرنا بھی مشکل ہوگیا ۔یمنی ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق اس واقعہ میں 7پاکستانی عملے کے ارکان جاں بحق ہو گئے تھے جب کہ ایک واحد فرد ہی اس حملہ میں بچ پایا جسے یمنی انقلابیوں نے بچایا تھا۔

l_236401_051157_updates.jpg

 واحد بچ جانے والے پاکستانی کبیر حسین کی فائل فوٹو

واحد بچ جانے والے پاکستانی کا نام کبیر خادم حسین ہے جب کہ جاں بحق ہونے والے دیگر افراد میں جہاز کا کیپٹن انیس الرحمن، سہیل احمد، محمد شعیب، محمد حنیف، محمد ابراہیم، اختر علی اور عبدالرزاق تھا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کو شائد ان افراد تک رسائی میںاس لئے مشکل پیش آئی تھی چونکہ یمنی دارلحکومت صنعا میں قائم موجودہ حکومت کے ساتھ اس وقت پاکستان کے سفارتی تعلقات موجود نہیں تھے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button