ٹرمپ کے فلسطین مخالف اقدام کا اسرائیل نے خیرمقدم کیا
صیہونی حکومت کے وزیر تعلیم نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کا انتخاب ، آزاد فلسطینی مملکت کے قیام میں رکاوٹ بنے گا-
رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت کے وزیر تعلیم اور انتہا پسند جماعت جیوش ہوم پارٹی کے سربراہ نفتالی بینیٹ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ کے نو منتخب صدر کا موقف ، آزاد فلسطینی مملکت کے قیام کو روکنا ہے-
ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد حماس کے ترجمان سامی ابوزہری نے ایک بیان میں مسئلۂ فلسطین کے تعلق سے امریکی پالیسی کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملت فلسطین کو نظر انداز کرتے ہوئے صیہونی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کے ٹرمپ کے وعدے کے سائے میں ، امریکہ کی پالیسی میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کی امید نہیں کی جاسکتی-
نیتن یاہو کی قیادت میں حکومتی اتحاد میں شامل وزیر تعلیم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ "ٹرمپ کی کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینی ریاست کا دور لد گیا”۔ نفتالی بینیٹ نے امریکہ کے ری پبلکن صدارتی امیدوار کی کامیابی پر خوشی کے شادیانے بجاتے ہوئے کہا ہے کہ ” یہ جیت اسرائیل کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے نعرے سے دستبردار ہوجائے کیونکہ ملک کے وسط میں یہ ریاست ہماری سکیورٹی اور نصب العین کو نقصان پہنچائے گی –
انہوں نے اپنی طرف سے امریکی صدر کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ ”نومنتخب صدر کا بھی یہی موقف ہے- ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔”








