یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی عرب کے حملے بدستور جاری
یمن کے المسیرہ ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے دارالحکومت صنعا سمیت عمران، الجوف ، مآرب ، تعز اور شبوہ صوبوں پر متعدد بار بمباری کی ہے- اس رپورٹ کے مطابق ان حملوں کے جواب میں یمنی فوجیوں نے بھی صوبہ شبوہ کے شہر عسیلان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کرکے اتحادی فوج کے ستائیس عناصر کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور ایک بڑی تعداد کو زخمی کردیا- در ایں اثنا یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے صنعاء کے علاقے ” نہم ” میں سعودی ایجنٹوں کے گھسنے کی کوشش کو ناکام بنادیا اور ان کو جانی اور مالی نقصان پہنچایا –
واضح رہے کہ سعودی عرب نے اپنے کئی عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ سے، غریب عرب ملک یمن پر حملے شروع کر رکھے ہیں جس کا مقصد یمن کے مفرور سابق صدر منصور ہادی کی پٹھو حکومت کو دوبارہ اقتدار میں واپس لانا ہے۔
ان حملوں میں زیادہ تر اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر بنیادی تنصیبات اور حتی عوام کے گھروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے- اب تک ان حملوں میں ہزاروں یمنی شہری شہید ہوچکے ہیں- شہید ہونے والوں میں سیکڑوں عورتیں اور بچے شامل ہیں-
ان حملوں سے منصور ہادی تو اقتدار میں واپس نہیں آ سکے لیکن گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے کے دوران صرف یمن کے عوام کا قتل عام ہوا ہے اور اس ملک کی بنیادی تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں۔ یمن میں عورتوں اور بچوں سمیت جنگ میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافے اور سعودی عرب کے سخت محاصرے میں آئے ہوئے اس غریب ملک میں بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔