خرم ذکی ایک جہد مسلسل
خرم ذکی کا قصور یہ تھا کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتا تھا، وہ چاہتا تھا کہ ریاست کیخلاف کھڑے ہونے والوں کو لٹکایا جائے، وہ ریاست کیخلاف اعلان جہاد کرنے والوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانے کا خواہش مند تھا، وہ داعش کے سرغنہ ابوابکرالبغدادی کو پاکستان آنے کی دعوت دینے اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت پر افواج پاکستان سے انتقام لینے کی درخواست کرنے والی جامعہ حفصہ کی طالبات کیخلاف ریاست سے غداری کا مقدمہ دراج کرانا چاہتا تھا، وہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر ایک خاص مسلک سے متعلق الزام عائد کرنے پر مولوی عبدالعزیز کیخلاف کارروائی کا متمنی تھا۔ پشاور آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہو یا اقلیتوں پر ہونے والے مظالم، ہر طرح کی دہشتگردی کے خلاف خرم ذکی سڑکوں پر سراپا احتجاج نظر آیا۔ وہ لال مسجد جس کے قریب گزرنے سے لوگ کتراتے تھے، لیکن انہوں نے سول سوسائٹی کے افراد کو وہاں کھڑا کرکے حوصلہ دیا کہ ہاں ظلم کیخلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا جاسکتا ہے، پشاور آرمی پبلک اسکول سانحہ کو ایک سال مکمل ہوا تو اپنی اہلیہ اور بچوں سمیت احتجاج کیلئے لال مسجد کے باہر پہنچ گیا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ جس ریاست کو مولوی عبدالعزیز نے چیلنج کیا تھا اور اس کے ماننے والوں نے اس کیخلاف جہاد کا اعلان کیا تھا، ان پر تو ہاتھ نہیں ڈالا گیا تھا البتہ خرم ذکی کو لال مسجد کے باہر مظاہرہ کرنے کی پاداش میں گرفتار کرکے تھانہ میں بند کر دیا گیا تھا۔
وفاقی دارالحکومت کے باسی جانتے ہیں کہ جب بھی جمعہ آتا تو تمام موبائل فون سروسز بند کردی جاتی تھیں، کیونکہ مولانا عبدالعزیز کا خطبہ ہونا ہوتا تھا۔ اس بارے میں جب بھی وزیر داخلہ چوہدری نثار سے سینیٹ میں سوال کیا جاتا تھا تو وہ جھوٹ کا سہارا لیتے تھے۔ ایک ملاقات میں خرم سے سوال کیا تھا کہ خرم آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ لال مسجد کے باہر آکر اس لئے احتجاج کرتے ہیں، تاکہ آپ کو بیرون ملک جانے کیلئے ازائلم مل سکے، اس پر فوراً گویا ہوئے اور کہا کہ ’’میرے بھائی آج لکھ لو کہ میرا فیصلہ وقت کرے گا کہ میں یہ کیوں کر رہا ہوں، واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں کسی ملک میں نہیں جا رہا اور نہ ہی میرا ایسا کوئی ارادہ ہے، میں اسی ملک میں ہوں یہی دفن ہوں گا۔‘‘ اب میرے سمیت سب نے دیکھ لیا کہ وہ اسی ملک میں ہی شہید ہوا اور یہی دفن ہوا، وصیت کے مطابق اسے پاکستانی پرچم کے ساتھ منوں مٹی تلے دفن کیا گیا، لیکن اس پر ایرانی ایجنٹ ہونے کا بھی الزام لگایا گیا، لیکن حد یہ تھی کہ وہ ٹیکسی کرا کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جایا کرتا تھا، وہ موت سے بےنیاز ہوکر وفاقی دارالحکومت کی سڑکوں پر پایا جاتا تھا، ایک اور ملاقات میں ان کی قلمی روش پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ محترم آپ جس انداز میں لکھ رہے ہیں، اس میں تھوڑی سی نرمی پیدا کر لیں، کیا آپ کو موت سے خوف نہیں آتا، اپنے لئے نہ ہی سہی اپنے بچوں کا ہی خیال کر لیں، جواب ملا کہ نیک مشورہ دینے کا شکریہ، لیکن جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں۔
خرم کی فیس بک کی وال گواہ ہے کہ اس کا ٹارگٹ تکفری تھے، وہ ایم کیو ایم کے حوالے سے نرم گوشہ بھی رکھتا تھا، اسی پر کئی لوگوں کو اس سے اختلاف بھی رہا، اس حوالے سے وہ اپنا ایک نکتہ نظر رکھتا تھا، ایک بار سوال کیا تھا کہ خرم جس ادارے (آئی ایس آئی) پر مسلکی اعتراض اٹھایا گیا ہے اور مولوی عبدالعزیز نے دھڑلے سے کہہ دیا ہے کہ آئی ایس آئی میں موجود شیعہ لابی اس کیخلاف سازشیں کر رہی ہے تو اس پر آئی ایس آئی کو ایکشن لینا چاہیئے تھا، انہیں جواب دینا چاہیئے، آپ ہی کیوں جواب دے رہے ہیں، اس پر بولے کہ اگر وہ ایکشن نہیں لیتے تو کیا پاکستانی شہری ہونے کے ناطے میری کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں وہ رینجرز سے بہت ناراض دکھائی دیا، وہ ڈی جی رینجرز کی جانب سے جامعہ بنوریہ اور دیگر دیوبند مکتب کے مدارس میں جانے پر بھی ناقد تھے، وہ کہتا تھا کہ اگر جانا ہی ہے تو سب کے پاس جاو، وہ یہ بھی کہتا تھا کہ جن کیخلاف آپریشن ہونا چاہیے، وہاں آپریشن نہیں ہو رہا، خرم سمجھتا تھا کہ کراچی آپریشن فقط ایم کیو ایم کیخلاف ہو رہا ہے، کراچی آپریشن کو سیاسی بنا دیا گیا ہے۔ خرم نے آفتاب احمد کی رینجرز کے ہاتھوں ہلاکت پر رینجرز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
سچ یہ ہے کہ خرم ذکی کو اپنی موت پر کامل یقین تھا کہ وہ ایک دن تکفیریوں کے ہاتھوں مار دیا جائیگا، اسے پتہ تھا کہ وہ جن کیخلاف اعلان جنگ کرچکا ہے، وہ اس سے ایک نہ ایک دن ضرور انتقام لیں گے، کیونکہ تکفیریت کبھی عقل و دلیل اور برہان کا مقابلہ نہیں کرتی، تکفیریت دلیل کے بجائے گولی کی بات کرتی ہے۔ خرم کو یہ بھی معلوم تھا کہ وہ اس محاذ پر تن تنہا ہے، خرم مولوی عبدالعزیز کو فرقہ وارانہ گفتگو، داعش کو دعوت دینے اور سانحہ اے پی ایس کی مذمت نہ کرنے پر اس کے خلاف مقدمہ درج کرانا چاہتا تھا، وہ سمجھتا تھا کہ مولوی عبدالعزیز جیسے بندوں پر اگر ریاست سے بغاوت کا مقدمہ درج نہ ہوا تو ایک راستہ کھل جائے گا، وہ کئی ماہ سے اسلام آباد کی عدالتوں کی خاک چھان رہا تھا، وزارت داخلہ کی مداخلت کے باعث پولیس مولوی عبدالعزیز کے خلاف مقدمہ درج نہیں کر رہی تھی۔ تبھی وہ عدالتوں سے رجوع کرنے پر مجبور ہوا، مقامی عدالت سے کیس ہارا تو ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، عدالت کے معزز ججوں کے ریمارکس سن کر بھی خرم نہ گھبرایا، ورنہ جس انداز میں ججز نے توہین آمیز لہجہ اختیار کیا اور ریمارکس دیئے تھے، اگر ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شائد گھر بیٹھ جاتا، لیکن خرم نے ہمت نہ ہاری، وہ زندگی کی آخری سانس تک تکفیریوں کیخلاف ایک محاذ بنا رہا۔ حقیقت میں خرم ایک جہد مسلسل کا نام ہے۔ شائد اقبال نے اسی لئے کہا تھا:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مُشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا