34ممالک اتحاد کا ہدف گریٹر اسرائیل کی تکمیل ہے، علامہ امین شہیدی
شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ’’حجت الاسلام والمسلمین محمد امین شہیدی‘‘ نے سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے34 ممالک کے فوجی اتحاد اور پاکستانی وزیر اعظم کے اس اتحاد میں شرکت پرشدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اسلامی ممالک میں دہشتگردی کا خاتمہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کے خلاف امریکی وصیہونی مفادات اور گریٹر اسرائیل کی تکمیل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کے پس پردہ وہ قوتیں ہیں کہ جنہوں نے گذشتہ تین دہائیوں کے دوران نہ صرف لاکھوں مسلمانوں کو آگ کی بھٹی میں جھونک دیا بلکہ امت مسلمہ کو اقتصادی و معاشی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ دہشتگرد چاہے طالبان کے روپ میں ہوں یا داعش کی شکل میں ان کی فکری رہنمائی اور مالی معاونت میں عرب ممالک اور امریکہ کا کردار کلیدی رہا ہے اور ان ہم خیال ریاستوں کا یہ فوجی اتحاد ان مسلم ممالک کے داخلی و خارجی مفادات کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہو گا جو طاغوتی طاقتوں کے زیر اثر نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں سعودی عرب او راسرائیل کے درینہ دوستانہ تعلقات مسلم ممالک سے ڈھکے چھپے نہیں اور عالمی میڈیا میں اس اتحاد کو امریکی حکمت عملی کی طرف مثبت قرار دیا جانا ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔
موصوف ڈپٹی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ فرقہ وارانہ تقسیم کی بنیادپر تشکیل کردہ اس اتحادکے نافقط عالمی سطح پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں بلکہ داخلی طور پربھی یہ اختلاف اور انتشار کا باعث بن رہا ہے جبکہ ہمارے ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے ذاتی مفادات اور کاروباری مقاصدکے حصول کی خاطربیس کروڑ عوام کی عزت اور وقارکو داؤ پر لگا دیا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین محمد امین شہیدی نے مزید کہا کہ انسداد دہشتگردی کے نام پر تشکیل کردہ یہ اتحاد کسی بھی صورت موثرثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ عالمی سطح پر اسلام کے خوش نما چہرے پرلگے داعش،النصرہ ، القائدہ ،طالبان اور بوکوحرام جیسے بدنماداغوں کو مٹانے کیلئے عملی طورپر میدان میں حاضر ممالک شام ، لبنان، عراق ، فلسطین اور ایران کو اس اتحاد سے باہر رکھا گیا ہے جو کہ اس اتحاد کی تشکیل میں تعصب کو ظاہر کرتا ہے۔








