پاکستان

حج کا بنیادی فلسفہ عالمی اسلامی،الہی و قرآنی امت تشکیل دینا ہے، علامہ سید جواد نقوی

 فریضہ حج اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ امّت بنائی جائے تمام رنگ و نسل کے لوگ امتیاز رنگ و نسل کو مٹا کر رنگ و بو کو مٹا کر اپنی تہذیب و کلچر کو چھوڑ کر اپنے معمولات زندگی کو چھوڑ کر سب آئیں ایک ہو جائیں وہ جو الگ الگ فرقے بنے ہوئے ہیں وہ جو الگ الگ قومیں ببنی ہوئیہیں جو الگ الگ قبیلے بنے ہوئے ہیں الگ الگ پارٹیاں بنے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی انفرادی یا اجتماعی کوئی حیثیت بنائی ہوئی ہے سب آ کر یہاں ختم کر کے ایک رنگ ایک لباس پہن کر ایک ہوں یہ ریہرسل اورمشق ہے اس لیے یہاں چند دن آ کر امّت واحدہ ہونے کا مظاہرہ کریں اور پھر واپس اپنے وطن میں اپنے علاقے میں جا کر امّت واحدہ بنیں یہ رنگ و نسل و فرقہ اور یہ سارا کچھ ختم کریں ابراہیم امام ہیں اور ابراہیم کو کہا گیا اے ابراہیمؑ لوگوں میں اعلان کرو
قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا(سوره البقرہ، آیت ١٢٤)
اے ابراہیم ہم آپ کو امام بنا رہے ہیں- اے امام اب تم لوگوں میں اعلان کرو ، انہیں دعوت دو پھر لوگ دور دراز سے ہر ممکنہ وسیلے سےاپنے امام کی طرف آئیں گے۔جو لنگر کھانے یا ہوٹلوں میں رہنے کی بجائے اپنے امام کی دعوت پر آئے گا وہی اس امام کے لیے امت ہو گا- امّت بننے کے لیے بلایا جا رہا ہے- امّت بننے کے لیے اپنے امتیازات ختم کرو ،یہ جو کچھ سلوا کے پہن کے آئے ہو، سب سلا ہوا لباس اتار دو اور دوسفید چادریں یعنی احرام باندھ اور سب کے سب یک زبان پکارو،
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ
کہ خدایا ہم تیری طرف سے مقرر کردہ امام ابراہیمؑ کی دعوت پرلبیک کہتے ہوئے آ گئے ہیں۔ کعبة الله کا طواف کرو، مواقف پر قیام کرو، تاکہ امّت سازی کا مقصد حاصل ہو جائے- تفریح یا تجارت کا حج نہ ہوبلکہ معنویت کا حج ہو۔ تعصبات کا حج نہ ہو بلکہ ابراہیمی حج ہو ۔کوئی مسلمان دوسرے مسلمان سے فرق نہ رکھے چاہے جس خطے سے بھی گیا ہو- عالم ،سرمایا دار ، غریب و فقیر ہے ، جو جس حیثیت سے گیا ہے وہ وہاں جا کر اپنی حیثیت کو ختم کر کے الہٰی رنگ اپنا لے اور الہٰی امّت بنے۔ ایک خاص محدود علاقے میں مومنین کے اجتماعِ جمعہ کا بھی یہی فریضہ ہےکہ امّت واحدہ بنیں۔یہ جواجتماعِ جمعہ کے نتیجے میں ہر علاقے میں علاقائی امت بنے گی کہیں علاقائی رنگ سے مغلوب نہ ہو جائے اس لیے سب مل کر سال میں ایک دفعہ بیت الله میں جائیں تاکہ علاقایت کا رنگ ختم کر کے پوری زمین پر امّت واحدہ بن جائیں اور اس امت ساز ابراہیمی حج کی انتظار ہے۔

شیخ الشھداء،بوذردوراں،شھید مظلوم آیۃ اللہ شھید باقرالنمرکا مقدس عمامہ۔۔عینک اور نعلین۔۔۔!وہ ھستی جو شھادت کےبعد بھی آلسعود کےلئے نابودی کا پیغام اجل ھے۔۔۔یہ اُن کی سادہ ترین زندگی کا ایک نمونہ ھے۔۔۔۔!سیرت معصومینؑ کےپیرو اپنےعمل و کردار سےپھچانےجاتےھیں۔۔۔۔۔!”

متعلقہ مضامین

Back to top button