وہابیت کے منحوس قدم نے نائجیریاکاامن تباہ کیا، تجزیہ
شیعیت نیوز: ایک ایرانی نیوز وئب سائٹ نے لکھا ہے کہ نائجیریا کے مسلمان اورعیسائی فرقے کے لوگ ملک میں وہابیت کی آمد سے پہلے احترام اورعزت کی زندگی گذربسر کررہے تھے لیکن 1970 ءمیں جب وہابیت کے منحوس قدم اس سرزمین پر پڑے توساراخطہ عدم استحکام اورتشدد کا شکار ہوا۔
وئب سائٹ نے لکھا ہے کہ حکومت آل سعود کی دراندازی سے پہلے نائجیریائی مسلمان اورعیسائی امن وہم آہنگی کا مظاہرہ کرکے تنازعات ،جنگوں اورتشددسے کوسوں دورتھے لیکن بدقسمتی سے وہابیت کی آمد سے عدم برداشت، نفرت اورایک دوسرے پر سبقت لے جانا اورخاص طورسے دہشتگرد گروہ بوکوحرام جیسا منحوس سایہ نائجیریا پر سایہ فگن ہوا ہے جس نے وہابیت کی منحرف تعلیمات کا سہارالیکر قدرتی وسائل سے مالامال ملک میں خون کی ہولی کھیلنی شروع کی ۔
وئب سائٹ کے مطابق وہابیت کے اس غلط نظرئے نے شمالی نائجیریا میں اپنے قدم جماکر وہاں کے صوفی مسلمانوں کو کافرقراردیکر سعودی پٹروڈالر کے ذریعے اپنی الگ مسجد یں ،سکول تعمیرکرنے شروع کردئے اورسعودی پٹروڈالر کے ذریعے یہ منحرف گروہ شمالی نائجیریا کے قصبوں اوردیہاتوں میں فروغ پانے لگا۔
وئب سائٹ نے لکھا ہے کہ شمالی نائجیریا میں اس وہابی آلودگی کی وجہ سے برسوں سے مسلمانوں اورعیسائیوں میں قائم برادرانہ تعلقات متاثر ہونے لگے جومختلف مسالک کے پیروکاروں کے درمیان ان گنت مذہبی تنازعوں کاباعث بناجسکے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ نائجیریائی افراد موت کی ابدی نیند سوگئے ۔
وئب سائٹ کے مطابق ان ناساعد حالات اورتنازعوں کی زدمیں ملک کے قوم کی حالت سدھارنے کیلئے نائجیریا میں شیخ ابراھیم زکزکی نے منحرف وہابیت کے توڑکیلئے اورمسلمانوں اورعیسائیوں کے درمیان پرامن بقا ئے باہمی کی اہمیت کو اجاگر کرنےکیلئے ملک میں اسلامی تحریک آف نائجیریا کی داغ بیل ڈالی جونائجیریامیں مسلمانوں کا پہلاگروہ تھا جس نے عیسائی مذہب کے علماؤں اوررہنماؤں کواپنی محفلوں میں دعوت دی اوراس تحریک سے وابستہ افراد باضابطہ طورپر عیسائی محفلوں میں بھی شریک ہوتے رہے جسکی وجہ سے نائجیریا میں امن وسکون پھر سے لوٹ آیاتھا ۔
وئب سائٹ کے مطابق انسانیت اورامن وسکون کے دشمن وہابی گروہوں کو شیخ ابراھیم زکزکی کی امن پسند حکمت عملی راس نہ آئی اورانہوں نے آپ جیسے عظیم انسان پر بھی عیسائی ہونے کا الزام عائد کردیا ۔
وئب سائٹ کے مطابق وہابیت کے پیروکارجو القاعدہ ،داعش ،بوکوحرام جیسے قاتلانہ دہشتگردوں جواسلام کے نام پرعصرحاضر میں بے گناہ انسانوں کا قتل عام کررہے ہیں ہی ان گروہوں کو موردوجود میں لانےکے ذمہ دار ہیں ۔
وئب سائٹ نے لکھا ہے کہ ان ہی وہابیوں کی دوسرے ادیان کےساتھ نفرت کی وجہ سے آج کل تمام دنیا میں قتل وغارت گری کا سلسلہ جاری ہے ۔
وئب سائٹ کے مطابق نائجیریائی فوجی کی طرف سے شیعہ مسلمانوں کا سفاکانہ قتل عام جس میں ہزاروں افراد شہید ہوئے اسی وہابیت کی ایک کڑی ہے کیونکہ دنیا بھر سے اس سفاکانہ اوربہیما نہ قتل عام کی مذمت کے باوجود صرف اورصرف سعودی وہابی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز ہی ایسے واحد شخص تھے جس نے نائجیریا کے صدرعبدالباری کو اس سفاکانہ اوربہیمانہ قتل عام پرمبارک باد پیش کی ۔
وئب سائٹ نے مزید لکھا ہے کہ اگر چہ نائجیریا میں رہائش پذیر عیسائی پیروکاروں نے اس قتل عام کی مذمت کرکے اس طرح کے ظالمانہ اقدام کے خلا ف آواز بلند کی لیکن پھر بھی دنیا بھر میں انسانی حقوق کا ڈ ھنڈو را پیٹنے والے نا نہاد ٹھیکیدار نا ئجیر یا ئی حکومت کے خلاف عملی اقدا مات کر نے سے قا صر ہیں ۔








