داعش کے لئے خودکش جیکٹس بنانے والا بچوں کی طرح رو پڑا ،ایساکیوں؟
شیعیت نیوز: خودکش جیکٹیں بنانے والے دوسروں کو یہ موت کی جیکٹ پہنا کر بھسم کرنے میں دیر نہیں لگاتے لیکن اگر کبھی خود ان کو یہ جیکٹ پہننی پڑے تو وہ اپنے ’مقدس‘ مشن سے توبہ کر لینا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ بارودی جیکٹ بنانے والوں کی اس بزدلی کا انکشاف عراق میں داعش کے ایک بم بنانے والے شدت پسند نے کیا جسے عراقی پولیس اور کرد جنگجوؤں نے حال ہی میں گرفتار کیا ہے۔ 22سالہ جاسم محمد عطیۃ نامی یہ شدت پسند داعش کے لیے خودکش جیکٹ اور بارودی مواد سے بھری گاڑیاں تیار کرتا تھا۔ گرفتار ہونے پر وہ بچوں کی طرح بلبلا کر رونے لگا اور کہنے لگا کہ ’’میرے گرفتار ہونے پر اللہ مجھ سے ناراض ہو گا۔‘‘فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شدت پسند نے کہا کہ ’’جو میں کرتا رہا ہوں وہ دہشت گردی تھی لیکن یہ میری ڈیوٹی تھی۔ دنیا میں کتنے ہی کافر ہیں، اوران کافروں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘ ٹی وی چینل کی طرف سے سوال کیا گیا کہ کیا تم اپنی بنائی بارودی جیکٹ خود بھی پہننا چاہو گے؟ جواب میں جاسم محمد عطیۃ نے کہا کہ ’’میں کبھی بھی اپنے آپ کو دھماکے سے نہیں اڑاؤں گا، اگر داعش کی قیادت مجھے خودکش جیکٹ پہن کر حملہ کرنے کا حکم دیتی تو میں جہاد ہی چھوڑ دیتا۔اگر وہ مجھے زبردستی جیکٹ پہنانے کی کوشش کرتے تو میں وہاں سے فرار ہو جاتا۔‘‘
برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاسم محمد عطیۃ نے 20سال کی عمر میں داعش میں شمولیت اختیار کی۔ اسے شدت پسند تنظیم نے بم بنانے والے کیمپ میں ٹریننگ کے لیے بھیج دیا جہاں اسے دو ہفتے کی تربیت دی گئی۔ جاسم نے دوران تفتیش بتایا کہ پہلے ہفتے میں اسے بم بنانا اور دوسرے ہفتے میں گاڑیوں میں بارودی مواد بھرنا سکھایا گیا۔ اس نے کہا کہ ’’تربیت کے بعد داعش نے مجھے ترقی دے دی اور بااختیار بنا دیا، جب کوئی اس طرح طاقتور ہو جاتا ہے تو اسے کوئی خوف نہیں رہتا۔ رپورٹ کے مطابق گرفتاری کے وقت جاسم محمد عطیۃ ایک بڑے ٹرک میں بھاری مقدار میں بارودی مواد نصب کر رہا تھا جسے ترکی کے بارڈر سے 70میل دور عراق کے علاقے عبریل میں دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ کرد حکام کا کہنا ہے کہ یہ بارودی مواد اس قدر زیادہ تھا کہ اگر پھٹ جاتا تو بڑی تباہی آتی۔ اس منصوبے کے لیے جاسم محمد کو داعش کی طرف سے 30ہزار ڈالرز (تقریباً 30لاکھ روپے) دیئے گئے تھے تاکہ وہ ٹرک خرید سکے۔ اس سے قبل بھی اس کے تیار کردہ بم عراق میں بڑی دہشت گردی کی وارداتوں میں استعمال ہو چکے ہیں جن میں سینکڑوں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ واضح رہے کہ جاسم محمد عطیۃ کو کردعدالت کی طرف سے سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔