عراق کی تقسیم ناممکن /داعش کے خلاف ایران کی امداد قابل قدر
عراق کے صدر معصوم فواد نے عراق کی تقسیم کو ناممکن قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے عراق کے شہر موصل پر داعش کے قبضہ کے بعد عراق کی بڑی مدد کی اور اگر ایران کی مدد نہ ہوتی تو دہشت گردوں کا عراق کے بڑے حصہ پر قبضہ ہوجاتا۔
عراقی صدر نے امریکہ کی جانب سے عراق کی تقسیم کے منصوبے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کی تقسیم ناممکن ہے کیونکہ عراقی قانون کے مطابق عراق کے تمام صوبہ مرکز کے تحت ہیں جس کے بارے میں کوئی تشویش نہیں ہے۔ عراقی صدر نے ایران اور عراق کے باہمی روابط کے فروغ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عراق اور ایران دو برادر اور ہمسایہ ملک ہیں جو تاریخی ، مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔
عراقی صدر نے روس، ایران ، عراق اور شام کے درمیان انٹیلیجنس اطلاعات کے تبادلے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے روس، عراق ، ایران اور شام کے درمیان انٹیلیجنس اطلاعات کا تبادلہ بہت ضروری ہے۔
عراقی صدر نے عراق اور سعودی عرب کے تعلقات میں پیشرفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سست روی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔