مقالہ جات

ملا عمر کی موت کے بعد طالبان کی حکمت عملی؟

ملا عمر کی موت کا رسمی اعلان ہوچکا ہے۔ چاہتا ہوں کہ طالبان اور اس کے حامیوں کے بدلتے ہوئے نیریٹیوز کی بنیاد پر حقائق کو آسانی سے ساتھ سمجھ لیا جائے۔ اس کے لئے آپ غور فرمائیں کہ 16 ستمبر 2001ء کو پاکستان کے دیوبندی علماء کا وفد طالبان حکومت کے سربراہ ملا عمر سے ملنے افغانستان کے شہر قندھار گیا۔ ان سے ملاقات کے بعد اس کا احوال دیوبندی علماء نے بیان بھی کیا اور بعض طالبان نواز اخبارات میں بھی یہ روداد شائع کی گئی۔ اکوڑہ خٹک کے مشہور دیوبندی مدرسہ کے شیخ الحدیث ڈاکٹر شیر علی شاہ نے بتایا تھا کہ ملا عمر نے پاکستانی وفد سے کہا کہ اب اگر ہم ذرا سا بھی جھک گئے تو اسلام مغلوب ہوجائے گا۔ طالبان کے دور حکومت میں افغانستان میں سرگرم رہنے والا قاری سیف اللہ اختر اور ان کے نائبین کا بیان ان کے گروہ ’’حرکت جہاد الاسلامی‘‘ کے مجلہ الارشاد شمارہ دسمبر 2001ء میں شائع ہوا، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی اتحادی فوجیں افغانستان کی عام شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی تھیں، اس لئے طالبان نے شہروں سے انخلاء کا فیصلہ افغان عوام کے بہترین مفاد میں کیا، حکومتوں کا آنا جانا ہمارے سامنے کوئی وقعت نہیں رکھتا۔ اصل مقصد جہاد فی سبیل اللہ ہے اور وہ ہم لوگ کر رہے ہیں۔ قندھار ابھی تک طالبان کے قبضے میں ہے، مجاہدین حوصلے بلند رکھیں۔ امریکی چھاتہ بردار قندھار میں اترے ہیں، کفر و اسلام کا اصل معرکہ ان شروع ہوگا۔” قاری سیف اللہ اختر سمیت سبھی طالبان نواز گروہوں نے نائن الیون کے بعد امریکی جنگ میں طالبان کی پسپائی کو عظیم حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے رہے۔ پاکستانی دیوبندی علماء کے وفد میں تقی عثمانی بھی تھے اور شیر علی شاہ کہ جنہوں نے ملا عمر کو جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کی اعزازی سند بھی جاری کی تھی، انہیں ملا عمر کو سمجھانے کے لئے بھیجا گیا تھا، تاکہ وہ انہیں قائل کریں کہ القاعدہ کے مطلوب افراد کو امریکا کے حوالے کردیں یا افغانستان سے جانے کا کہیں، لیکن ملا عمر نے انہیں قائل کر لیا اور وہ بظاہر ناکام لوٹ آئے۔

کفر و اسلام کا معرکہ جس کی طرف قاری سیف اللہ اختر نے اشارہ کیا، جب قندھار میں شروع ہوا تو 5 دسمبر 2001ء ہی کو طالبان کے اعلٰی سطحی وفد نے بنفس نفیس حامد کرزئی کی خدمت میں حاضر ہوکر سرینڈر کا رسمی پیغام سنایا۔ لیکن کرزئی صاحب بھی بہت ہشیار تھے، انہوں نے کہا کہ تحریری طور پر سرنگوں ہونے کا رسمی اعلان پیش کریں۔ اسی سہ پہر ملا عمر کے ذاتی سیکرٹری، وزیر دفاع اور وزیر داخلہ سمیت کئی اہم طالبان نے کرزئی کو افغانستان کی جائز اتھارٹی مان کر سرینڈر کردیا۔ تحفے میں حامد کرزئی کے ایک دوست کو جسے انہوں نے قیدی بنا رکھا تھا، اسے آزاد کرکے ساتھ لائے، یہی آدمی بعد میں ارزگان کا گورنر بنا۔ یہ تفصیلات نک بی ملز کی کتاب ’’کرزئی‘‘ کے ساتویں باب طالبان کا سقوط میں موجود ہیں۔ مصنف 1980ء کے عشرے سے افغانستان پر تحقیق کرتا رہا ہے اور کرزئی سے کئی انٹرویوز کے بعد یہ کتاب لکھی۔ طالبان نواز پاکستانی ہیئت مقتدرہ کے دور میں افغانستان کا شعبہ افتخار مرشد نے طالبان دور حکومت پر کتاب لکھی ہے۔ اس سفارتکار کی طالبان سے براہ راست ملاقاتیں رہیں، اسلام آباد میں بھی اور افغانستان کے کئی شہروں خاص طور پر قندھار اور کابل میں بھی۔ انہوں نے لکھا کہ طالبان وزیر انصاف ملا ترابی اور ملا عبیداللہ نے جنوری 2002ء میں قندھار کی نئی مقامی انتظامیہ کے سامنے سرنگوں ہونے کا اعلان کیا۔

چونکہ طالبان کے عاشق بھی طالبان کے معاملے میں اندھے اور بہرے ہیں، اس لئے انہیں اس کے پیچھے بھی طالبان کی عظیم حکمت عملی نظر آئی ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ قندھار میں بھی ’’کفر اور اسلام کا اصل معرکہ‘‘ لڑے بغیر طالبان کو پورے افغانستان سے فرار کا موقع ’’کفر‘‘ کے معرکہ سازوں نے خود ہی کیوں فراہم کیا تھا۔ ’’کفر اور اسلام‘‘ کے آخری معرکے کی ایک اہم قسط تورا بورا میں بھی لڑی جاسکتی تھی لیکن یہاں بھی کفر کے معرکہ سازوں نے طالبانی اور وہابی ’’اسلام‘‘ کے معرکہ سازوں کو فرار کا موقع دیا۔ امریکا کے ’’میر جعفر‘‘ تو چاہتے تھے کہ سینٹرل کمانڈ امریکی افواج کو میدان میں اتارے، مگر جنرل ٹومی فرینکس کے خیال میں فوجیوں کے وہاں پہنچنے میں بہت وقت لگتا۔ تورا بورا پاکستانی سرحد کے قریب تھا مگر قندوز اور مزار شریف تو تاجکستان اور ازبکستان کے قریب تھے کہ جہاں امریکی افواج موجود تھیں، لیکن وہاں بھی امریکی افواج نہیں پہنچی۔ مقصد واضح تھا کہ امریکا اس جنگ کو پاکستان میں داخل کرنا چاہتا تھا اور اس کے بعد کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ یہ جنگ افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی لڑی گئی۔

وہ کہتے تھے کہ شہری آبادی کو امریکی حملوں سے بچانے کے لئے انخلاء کیا تو پھر پاکستان کے شہری علاقوں میں کیوں آکر چھپے؟ ان کے حملوں میں مسلمان شہری آبادی اور املاک کا نقصان کیوں ہوتا رہا اور اب تک مسلمانوں کے خلاف طالبان کے دہشت گرد حملے کیوں جاری ہیں۔ سعودی وہابیت زدہ دیوبندی طالبان اور اس کے عاشقوں کا نیریٹیو یہی رہا کہ افغانستان اور پاکستان کی حکومتیں یا افواج امریکی پٹھو تھیں، اس لئے ان کے افراد کو مارنا ثواب کا کام تھا۔ اس وقت بھی میرا سوال یہ تھا کہ افغانستان کی جنگ کے خلاف امریکی اتحاد میں جو مسلمان ممالک اعلانیہ اور سرکاری طور پر شریک تھے ان میں ترکی، سعودی عرب، قطر، بحرین، اردن اور متحدہ عرب امارات بھی پیش پیش تھے، تو طالبان نے ترکی اور قطر میں اپنے دفاتر امریکی اتحادی عجم اور عرب مسلمان حکمرانوں کی سرپرستی میں کیوں کھولے؟ ان دونوں ممالک اور خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے’’کفر کے معرکہ سازوں‘‘ کے ساتھ مذاکرات کیوں کرتے رہے اور اب پاکستان کی میزبانی میں مری امن عمل میں شریک کیوں ہو رہے ہیں؟ پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں نائن الیون کے بعد کس دن مشرف بہ اسلام ہوئیں یا امریکی اتحاد سے نکل آئیں، اس دن، مہینے اور سال کا بھی بتا دیں؟ اور کیا ایسا کرنے سے اسلام غالب ہوا یا مغلوب، کیونکہ امریکی جنگ سے پہلے تک تو آپ اسلام کے مغلوب ہوجانے کے ڈر سے ڈٹے ہوئے تھے۔

پاکستان کے موجودہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے اپنی یادداشتوں کو کتابی شکل ’’خوابوں اور حقیقتوں کے درمیان‘‘ میں پیش کیا۔ لکھتے ہیں کہ دسمبر 1998ء میں سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ شہزادہ ترکی ال فیصل نے ملا عمر سے ملاقات کے بعد پاکستان آمد پر بتایا کہ ملا عمر نے انہیں منافق قرار دیا اور طعنہ دیا کہ مقدس سرزمین کے بہانے اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے تم نے امریکی افواج کو مدد کے لئے بلایا، شاہ فیصل کا بیٹا ترکی ال فیصل غصے میں تھا۔ سرتاج عزیز نے بھی ملا عمر سے فون پر پشتو میں بات کی لیکن وہ نہیں مانے۔ نواز شریف نے فیصلہ کر لیا کہ طالبان حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کر دیں تو دوسرے دن پاکستان کے مشہور انٹیلی جنس ادارے کی افغان ڈیسک کے سربراہ ایک میجر جنرل بغیر کسی اجازت کے سرتاج عزیز کے دفتر آئے اور کہنے لگے کہ وزیراعظم کو راضی کریں کہ طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات ختم نہ کریں۔ سوال یہ ہے کہ سعودی حکومت کو منافق کہنے والے سال 2008ء کے ماہ رمضان اور شوال میں سعودی شہر جدہ میں سعودی سرپرستی میں کرزئی حکومت سے مذاکرات کیوں کر رہے تھے اور سعودیوں کو کیوں کہہ رہے تھے کہ پاکستان کو اس کا علم نہیں ہونا چاہئے، حالانکہ وہ پاکستانی پاسپورٹ پر ہی سفر کیا کرتے تھے؟؟

طالبان کے عاشق لکھاری کہتے ہیں کہ ان کے علاوہ کسی کو کچھ بھی نہیں معلوم کہ طالبان کیا ہیں، لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ طالبان، القاعدہ وغیرہ سبھی کے بارے میں غیر ملکی صحافیوں نے ہی دنیا کو آگاہ کیا، ورنہ تو کسی کو بھی نہیں معلوم تھا کہ القاعدہ نام کی کوئی تنظیم وجود بھی رکھتی ہے۔ طالبان کے ملا عمر نے بھی جب 2003ء میں دس رکنی شوریٰ کا اعلان کیا تو بی بی سی کی پشتو سروس کو اس کا آڈیو کیسٹ بھیجا تھا اور بی بی سی کے ذریعے ہی دنیا کو ملا عمر کی طالبان شوریٰ کا بتایا گیا۔ ملا عمر کی موت کی خبر بھی سب سے پہلے غیر ملکیوں نے نشر کی، طالبان نے تو 2 سال تک اس خبر کو چھپائے رکھا۔ لیکن بی بی سی سے بھی پہلے ہندستان ٹائمز نے خامہ پریس کی ایک خبر 23 جولائی 2015ء کو اپنی ویب سائٹ پر پیش کر دیا تھا، جس میں طالبان کے جنگجو گروہ فدائی محاذ ملا داد اللہ گروپ کے ترجمان قاری حمزہ نے خامہ پریس کو بتایا کہ ملا اختر محمد منصور اور گل آغا نے جولائی 2013ء میں ملا عمر کو قتل کر دیا تھا اور اس کا ثبوت بھی ان کے پاس ہے۔ ملا داد اللہ کو خود ملا عمر نے دس رکنی شوریٰ کا رکن مقرر کیا تھا۔ اب اوریا مقبول جان سمیت سارے طالبان نواز علماء و لکھاری بتائیں کہ ’’کفر و اسلام کا اصل معرکہ‘‘ جو طالبان کے ذریعے افغانستان میں ہونا تھا، اب تک کیوں نہیں ہوا، اور اس معرکے میں ’’ان کے مرد قلندر اور درویش صفت ملا عمر‘‘ کی رحلت کی خبر دیوبندی وہابی ذرائع ابلاغ کی بجائے بی بی سی سمیت عالم کفر کے ذرائع ابلاغ کو کس نے بتا دی؟ شاید یہ بھی طالبان کی عظیم حکمت عملی کا ایک باعظمت حصہ تھا! (یا پھر،،،،، شرم تم کو مگر نہیں آتی)۔

متعلقہ مضامین

Back to top button