دنیا

عوام مولانا کلب جواد نقوی کا پہلے سے زیادہ مضبوطی سے ساتھ دیں، علمائے ہندوستان

قم المقدسہ میں موجود ہندوستانی علماء، افاضل و طلاب کرام نے اپنے ملک کے موجودہ قومی مسائل و حالات پر ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا جس میں دو اہم مسئلوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں موجود علماء و افاضل نے مولانا کلب جواد کی قیادت میں چل رہی تحریک تحفظ اوقاف اور ٹائمز آف انڈیا کے ذریعہ امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے سلسلہ میں شائع کئے گئے گستاخانہ اور توہین آمیز مواد کے بارے میں اظہار خیال کیا۔ اجلاس میں شریک ہونے والے تمام علمائے کرام نے مشترکہ بیان جاری کیا جس میں تحفظ اوقاف کے سلسلہ میں مولانا کلب جواد کی کوششوں کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے ہندوستان میں موجود علماء، سماجی و سیاسی شخصیات اور عوام سے یہ اپیل کی کہ وہ اس تحریک میں مولانا کلب جواد کا پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ تعاون کریں تاکہ قومی و دینی سرمائے اور وقف املاک کو تحفظ فراہم ہوسکے اور ان میں کسی قسم کی خرد برد نہ کی جاسکے، اس لئے کہ وقف املاک ایسا مذہبی سرمایہ ہیں جو قوم کی فلاح و بہبود میں موثر کردار ادا کرتی ہیں۔ اس اجلاس میں 28 جولائی کو مصالحت آمیز مظاہرہ کر رہے عوام پر یوپی پولیس کی بربریت و سفاکیت کی شدید مذمت کی گئی جس میں عورتوں اور بچوں کو بھی بے رحمی سے مارا گیا اور شدید طور پر زخمی کیا گیا، نیز حکومت ہند سے ریاستی حکومت کی اندیکھیوں اور من مانیوں پر مداخلت کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

دوسرے انتہائی اہم موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے علمائے کرام نے ٹائمز آف انڈیا کے ذریعہ امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کی شان میں مغرضانہ انداز میں اور جان بوجھ کر گستاخی کرنے پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔ علماء کا کہنا تھا کہ امام خمینی عالم اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کی ایک مایہ ناز شخصیت ہیں جن کا احترام مسلمان اور غیر مسلمان سبھی کرتے ہیں، ٹائمز آف انڈیا نے امام خمینی کے سلسلہ میں انتہائی شرم آور اور خلاف حقیقت بات لکھ کر اپنی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے اور صحافت کے اصول و اقدار کی مبینہ خلاف ورزی کی ہے، یقیناً یہ توہین سوچی سمجھی سازش کے تحت عالمی استکبار کی پیروی میں کی گئی ہے۔ علماء نے اس سلسلہ میں بھی مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حریت پسند افراد کے ذریعہ موصول ہونے والی شکایتوں کے دباؤ میں اس نیوز پیپر نے اپنی ویب سائٹ سے وہ قابل مذمت اشاعت ہٹا لی ہے اور وہیں اپنا معافی نامہ بھی درج کیا ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے، اس کے ایڈیٹر کو چاہئے کہ وہ ٹائمز آف اندیا کے پہلے صفحہ پر اور اپنی ویب سائٹ کے ہوم پیج پر اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے تمام قارئین سے اس غلط بیانی پر معافی مانگے۔ علمائے کرام نے ہندوستان کے مختلف علاقوں بالخصوص حیدرآباد، ممبئی اور بنگلور میں موجود ان علماء و عوام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے موضوع کی اہمیت و نزاکت کو دیکھتے ہوئے فی الفور پولیس تھانے میں اف آئی آر اور شکایت درج کرائی۔

متعلقہ مضامین

Back to top button