دنیا

جنتر منتر یوم قدس کے موقع پر امریکہ اور اسرائیل مخالف نعروں سے گونج اٹھا

مجلس علماء ہند کے زیر اہتمام عالمی یو م قدس کے موقع پر آج جنتر منتر نئی دہلی پر ایک عظیم الشان ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں موجود مظاہرین نے مسجد اقصیٰ کی بازیابی، قبلہ اول بیت المقدس کے تحفظ اور عالمی سطح پر جاری دہشت گردی کی سخت مذمت کی۔ اس موقع پر خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی اور اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں نعروں پر مبنی تختیاں تھیں جس میں اسرائیل کی بربریت کی اور فلسطین کی معصومیت کا نظارہ واضح طور پر ظاہرہو رہا تھا۔ اسرائیل کے مظالم کے خلاف ملت اسلامیہ نے وحدت اسلامیہ کا ثبوت پیش کیا اور ایک بار پھر اسلام دشمن طاقتوں کو یہ باور کرایا کہ ان کی سازشیں کسی بھی صورت میں کامیاب ہونے نہیں دی جائیں گی۔ اس موقع پر مختلف تنظیموں کے سربراہان اور ملت کے علماء و دانشوران نے احتجاجی ریلی سے خطاب بھی کیا۔

سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے کہا کہ حکومت ہند کی تبدیل ہوتی ہوئی خارجہ پالیسی بے حد افسوس ناک ہے۔ ہم اس عظیم ملک میں فلسطین حامی اور اسرائیل مخالف نظریہ پر مبنی خارجہ پالیسی دیکھنا چاہتے ہیں۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے وزیراعظم اسرائیل کا سفر کرنے والے ہیں جو کہ ایک ظالم حکومت کی حمایت کے برابر ہے۔ ہم اس دورے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ سی پی آئی ایم کے جنرل سکریٹری اتل کمار انجان نے مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے مظلوموں کی حمایت کرنا ہمارے ملک کی پہچان رہی ہے۔ لہٰذا س شناخت کو باقی رکھنے کے لئے حکومت کو مثبت اقدام کرنا چاہیئے نہ کہ ظالموں کی حمایت میں ملک کی پالیسی کو تبدیل کریں۔ مولانا محسن تقوی نے کہا اتحاد وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے متحد رہ کر ہی فلسطین اور تمام عالم اسلام کے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔

جمعیۃ علماء دہلی کے جنرل سکریٹری مولانا جاوید قاسمی نے کہا کہ آج سامراجی طاقتیں مسلمانوں کا شیرازہ بکھیرنے کے لئے کوشاں ہیں اگر ہم متحد نہیں ہوئے تو پورے عالم اسلام کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔ داعش جیسی دہشت گرد تنظیم عالم اسلام کو کمزور کرنے کے لئے سامراجیت کا آلہ کار ہے۔ اس موقع پر آل انڈیا تنظیم انصاف کے جنرل سکریٹری عمیق جامعی، مولانا باقر عباس زیدی، مولانا عابد عباس زیدی، مولانا شیخ محمد عسکری سکریٹری مجلس علماء ہند نے بھی خطاب کیا اور حکومت ہند سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے اسرائیل کے ناپاک منصوبوں کی حمایت سے ہندوستان کے دامن کو بچائے اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار ہمدردی کا ثبوت پیش کرے۔

مقررین نے فلسطین کے ساتھ ساتھ دیگر مسلم ممالک کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور گزشتہ دنوں سعودی اور کویت کی مساجد میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی پرزور مذمت کی۔ مقررین نے کہا کہ اسلام کا تعلق دہشت گردی سے نہیں ہوسکتا۔ اسلام کے نام پر خواہ کتنی بھی دہشت گردی کی جائے دنیا کے امن پسند آج بھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ یہ دہشت گردانہ حملہ اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر ہورہے ہیں۔ کیونکہ دنیائے انسانیت کے سامنے اسلامی تعلیمات اور حضرت محمد (ص) کا کردار نمونے کے طور پر موجود ہے۔ ریلی کے آخر میں مظاہرین کی تائید کے بعد ایک میمورنڈم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دفتر واقع پارلیمنٹ ہاؤس میں مولانا باقر زیدی اور مولانا امیر حسنین نے پیش کیا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button