سعودی سفیر کا غیرسفارتی اقدام،قبائیلیوں سے سعودی سرحد کی حفاظت کے لئے 50 ہزار شدت پسند مانگ لئے
شیعت نیوز:اسلام آباد میں قائم سعودی بادشاہت کے سفارت خانے میں سعودی سفیر نے غیر سفارتی سطح پر قبائلی جرگہ سے ملاقات کی ہے، اس ملاقات میں سعودی سفیر نے پاکستانی افوا ج کی جانب سے یمن جنگ میں سعودی جارحیت کا ساتھ نہ دینے کے معمالے پر شکوہ کرتے ہوئے قبائلی جرگہ کو 50 ہزار شدت پسند سعودیہ عرب بھیجنے کے لئے کہا ہے۔اطلاعات کے مطابق سعودی سفیر نے کل قبائلی جرگہ سے سعودی کونسل خانے میں ملاقات کی ہے، اس ملاقات کا مقصد سعودی سفیر کی جانب سے قبائلی علاقے کے افراد کو سعودی عرب کی سرحدوں کےتحفظ کے لئے قبائلی جنگجو کی امداد طلب کرنا تھا، ذرائع کا کہنا ہے کہ قبائلی جرگہ لاکھوں ریال کی لالچ میں اپنے 50 ہزار جنگجو سعودی عرب بھیجے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔سعودی سفیرجاسم الخالدی نےقبائلی جرگہ کے سربراہ سے شاہ سلمان کے نام ایک خط لکھنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ آپ پاکستانی قبائل کی نمائندگی کرتے ہوئے بادشاہ سلامت کو اس بات کی یقین دہانی کراوئیں کے مشکل کے وقت میں پاکستانی قبائل سعودی بادشاہ کے ہمراہ ہونگے، سعودی سفیر نے قبائلی جرگہ کو یقین دلاوایا کہ اس خط کے بعد بادشاہ سلامت کی نوازش کا قبائل انداز نہیں کرسکتے ، اور وہ نوازشات ان لاکھوں ریال کے علاوہ ہونگی جو 50 ہزار جنگجو کے بدلے میں دی جائیگی۔
سوال یہ ہے کہ اسلام آباد کے قلب میں بیٹھ کر ایک غیر ملکی سفیر کس قانون کی ایما پر پاکستانی عوام سے ملاقات کررہا ہے اور انہیں دہشتگردی اور اپنے ملک کے تحفظ کے لئے اکسارہا ہے، ہماری حکومت ،ادارے اور انٹلیجنس ادارے کہاں ہیں؟ کیوں وہ ایک غیر ملکی سفیر کی غیر سفارتی سرگرمیوں کا نوٹس نہیں لے رہے۔
اس بات کا بھی دھیاں رہے کہ پاکستانی افواج اور پارلیمنٹ نے سعودی جارحیت میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے ،اس فیصلے کے خلاف اب سعودی عرب ان غیر ریاستی عناصر کو استعمال کررہا ہے۔