مقالہ جات

یمن میں سیاسی کھیل کے قواعد میں تبدیلی اور سعودی عرب کی مصر کو اس بحران میں دھکیلنے کی کوشش

یمن میں دخیل سیاسی طاقتوں کے توازن نے سعودی عرب کی اس ملک میں اپنے مفادات تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے ،اس لیے سعودی عرب کی کوشش ہے کہ نئے انعامات کی لالچ دے کر مصر کو اس بحران میں شامل کرے اور طاقت کے ترازو کے پلڑے کو اپنی طرف جھکا سکے ۔

اسلامی بیداری صارفین۲۹ : // تفصیل
یمن میں سیاسی کھیل کے قواعد میں تبدیلی اور سعودی عرب کی مصر کو اس بحران میں دھکیلنے کی کوشش

نیوزنور:یمن میں دخیل سیاسی طاقتوں کے توازن نے سعودی عرب کی اس ملک میں اپنے مفادات تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے ،اس لیے سعودی عرب کی کوشش ہے کہ نئے انعامات کی لالچ دے کر مصر کو اس بحران میں شامل کرے اور طاقت کے ترازو کے پلڑے کو اپنی طرف جھکا سکے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق 19 مارچ بروز جمعرات یمن کے بھگوڑے اور مستعفی صدر عبدربہ منصور ھادی کے یمن کے جنوب میں واقع اس کے ساحلی ٹھکانے پر بمباری کی گئی اور اس کے ساتھ ہی انقلابی کمیٹیوں نے صوبہء تعز میں کہ جو شمال اور جنوب یمن کے متصل ہونے کا مقام ہے پیش قدمی کی اور اس صوبے اور بطور خاص اس کے ہوائی اڈے کو عبد ربہ کے افراد کے کنٹرول سے خارج کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔یہ حملے اس کے بعد انجام پائے کہ جب عبد ربہ اور خلیج فارس تعاون کونسل میں اس کے حامی اور سر فہرست سعودی عرب جنوب یمن میں ایک متوازی حکومت قائم کرنے کے منصوبے پر عمل کر رہے تھے ۔

اس سلسلے میں عبد ربہ کے صنعاء سے چھپ کر بھاگنے اور اس کے جنوب یمن میں سابقہ صدر کے محل میں سکونت پذیر ہونے کے فورا بعد خلیج فارس تعاون کونسل نے عمان کو چھوڑ کر جنوبی یمن کے سابقہ پایتخت عدن میں اپنے اپنے سفارتخانوں کو کھول دیا اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے وسیع پیمانے پر قومی سطح کی گفتگو کے مرکز کو صنعاء سے ریاض میں منتقل کر دیا ،یہ ایسی حالت میں ہوا ہے کہ جب سعودی عرب ایک غیر جانبدار ملک نہیں بلکہ یمن کے بحران کے کھلاڑیوں کا اصلی فریق ہے ۔

اس بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یمن کے جنوب میں زمینی اور ہوائی حملوں کا مقصد اس ملک کے جنوب میں ایک متوازی حکومت کی تشکیل کو روکنا ہے کہ جو تاریخی مرکز سے گریز کے راستے ہموار ہونے کے پیش نظراس ملک کی تقسیم کے خطرے کی وجہ بھی بن سکتی ہے ۔ اسی دوران جنوب یمن میں امریکی فوجی ٹھکانے کو خالی کرنے سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اگر چہ یہ ملک اپنے مبینہ نظریات میں اب بھی عبد ربہ منصور ھادی کو اس ملک کا صدر کہہ رہا ہے لیکن عملا وہ اس کے لیے پھوٹی کوڑی بھی خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ یہ محسوس کر رہا ہے کہ سعودی عرب کا جنوب یمن میں حکومت کی تشکیل کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو گا اور انقلابی کمیٹیاں فوج کی مدد سے جنوب یمن پر بھی قبضہ کر لیں گی ۔

20 مارچ جمعے کے دن ،پہل بار جب سے حوثیوں کی رہبری میں انقلابی کمیٹیاں صنعاء میں قدم جمانے میں کامیاب ہوئی ہیں صنعاء میں زیدیوں کی مسجدوں پر دو دہشت گردانہ حملے کیے گئے ہیں کہ جن میں زیدی فرقے کے تقریبا ۵۰۰ غیر فوجی اور نمازی مارے گئے ہیں یا زخمی ہوئے ہیں ۔

دہشت گردوں نے غافل کرتے ہوئے سلسلہ وار نمازیوں کی بھاری بھیڑ پر جو حملے کیے ہیں ان کی وجہ سے انقلابیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔

اس دوران قابل غور اور سوال اٹھانے والا نکتہ یہ ہے کہ اس کے باوجود کہ ان حملوں کے دہشت گردانہ ہونے میں کوئی شک نہیں تھا اور بین الاقوامی اصول اور قوانین کے مطابق ان حملوں میں دہشت گردی کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں لیکن مغربی ملکوں کے ذرائع ابلاغ نے اپنی خبری اور تبلیغاتی کاروائی میں عمومی افکار اور عالمی سوسائٹی کو یہ حملے انجام دینے والوں کے خلاف اکسایا اور بھڑ کایا ۔

ان حملوں کے سلسلے میں ان ذرائع ابلاغ کا رویہ اس قدر سست اور بے روح تھا کہ جس سے ان دہشت گردانہ حملوں کا حکم دینے والوں کی ہمت اور بڑھ سکتی ہے ۔در حقیقت صنعاء میں زیدی نمازیوں پر دہشت گردانہ حملوں کے خلاف عربی اور مغربی ملکوں کے سرد اور بے روح رد عمل نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف دو طرح کا رویہ اپنایا جا رہا ہے اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ان سے ایک آلے کے طور پر استفادہ کیا جاتا ہے ۔

در حقیقت وہ لوگ کہ جو یمن میں کھیل ہار چکے ہیں اب وہ تکفیریوں کی مدد سے کھیل کو بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔اگر چہ یہ اعلان کیا گیا کہ ان حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے لیکن یہ احتمال کہ حملے القاعدہ نے کیے ہوں زیادہ قوی ہے ۔اس لیے کہ القاعدہ کافی عرصے سے یمن میں موجود ہے لیکن داعش نہ صرف یمن میں زیادہ عرصے سے نہیں ہے بلکہ وہ عراق اور شام میں بھی دفاع کے قفل میں بند ہے اور وہ حملے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ جس کے پھیلنے کی توقع یمن میں کی جا سکے ،خاص طور پر صنعاء میں جو نمازیوں پر حملے ہوئے ہیں ان کی وسعت اور ان میں ہوئے جانی نقصان کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے لیے منظم منصوبہ بندی کی ضرورت تھی ۔

دوسری طرف اگر اس دعوے کو مان لیا جائے کہ یہ حملے داعش کا کام تھا تو اس صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ داعش کے خلاف اتحاد کی تشکیل کے باوجود کہ کہا جاتا ہے کہ جس میں ۴۰ سے زیادہ عربی اور مغربی ملک شامل ہیں اور وہ داعش کے تحت تصرف علاقے کو ہوا اور زمین اور سمندر کی جانب سے محاصرے میں رکھے ہوئے ہیں ایسے میں وہ کس طرح اپنی موجودگی کو شام اور عراق سے نکل کر یمن تک پھیلانے میں کامیاب ہو گئے ؟

مجموعی طور پر موجودہ قرائن اور شواہد منجملہ صنعاء میں زیدی نماز گذاروں پر دہشت گردانہ حملوں اور یمن کے ۴۵ فوجیوں کے سر قلم کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ بد قسمتی سے شام کی صورت حال یمن میں دوہرائی جا رہی ہے اور سعودی عرب کہ جو شام کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے تکفیریوں کے وجود سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں کر پایا اب ان کی مدد سے یمن میں متمرکز ہو گیا ہے ۔

اسی طرح صنعاء اور تعز کی حالیہ امنیتی تبدیلیوں کے چلتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ امریکہ نے صنعا کے اپنے سفارت خانے کے باقیماندہ افراد کو تو نکال ہی لیا ہے اس نے عدن سے بھی اپنے افراد کو خارج کرنے کے لیے ایسا ہی اقدام کیا ہے ۔یہ دو اقدام چند نکتوں کو اجاگر کرتے ہیں : پہلا نکتہ یہ ہے کہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے اس کے بر خلاف کہ جو اس سے پہلے اعلان ہوا تھا ابھی تک صنعاء میں اپنے کارکنوں کو بچا کے رکھا تھا جب کہ اس مدت میں صنعاء حوثیوں کی رہبری میں انقلابیوں کے قبضے میں تھا جس کا مطلب یا تو انقلابیوں کی حاکمیت کو عملی طور پر پہچاننا ہے یا کم سے کم اس علامت کو دکھانا ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ خود کو انقلابیوں کے مقابلے پر کھڑا کرے ۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر چہ امریکہ نے اب تک کئی مرحلوں میں اپنے سیاسی اور سلامتی دستوں کو یمن سے خارج کیا ہے لیکن اس نے سعودی عرب اور حوزہء خلیج فارس کے دوسرے ملکوں کی طرح عدن میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اقدام نہیں کیا ہے ۔تیسرا نکتہ یہ ہے کہ امریکہ کا اپنے فوجیوں کو یمن سے خارج کرنے کا اقدام اس ملک میں اس کی فوجی اور سلامتی کے اعتبار سے موجودگی کے معنی میں نہیں ہے اس لیے کہ امریکی طیاروں کے حملے القاعدہ کے ٹھکانوں پر کما کان جاری ہیں بلکہ اس کے بالکل بر عکس ہے جس کا مطلب اخراجات کو کم کرنا اور لیبیا کی صورت حال کو پیدا نہ کرنا ہے کہ جس کے دوران امریکہ کا اس وقت کا سفیر لیبیا میں القاعدہ کے حملوں میں مارا گیا تھا ۔

اس کے علاوہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکیوں کو یہ اطمئنان ہو چلا ہے کہ جو کام امریکہ اس سے پہلے اپنے طیاروں کے ذریعے القاعدہ کے مقاصد کے خلاف کرتا تھا ،اس وقت یمن میں تبدیلیاں اس سمت میں جا رہی ہیں کہ یہ کام حوثیوں کے ہاتھوں ہو رہا ہے اور امریکہ در واقع ان حملوں سے اپنا مفت کا فائدہ اٹھائے گا ۔

موجودہ قرائن اور شواہد کے مجموعے سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ یمن میں تبدیلیاں اپنے آخری مر حلے میں داخل ہو چکی ہیں اور اگر اب تک یہ طے تھا کہ یہ بحران گفتگو کے ذریعے حل ہو لیکن عبد ربہ کے صنعاء سے عدن کی جانب بھاگ جانے ،اور اس کے بعد سعودی عرب کے گفتگو کے مقام کو صنعاء سے ریاض منتقل کرنے اور اسی طرح سعودی عرب کی عدن میں متوازی حکومت قائم کرنے کی کوششوں نے داخلی ہمہ گیر بات چیت کو شکست سے دو چار کر دیا ہے ۔

در واقع سعودی عرب اور جنوب یمن میں اس کی قائم کردہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے صنعاء کی حکومت کے خلاف سیاسی اور فوجی حملےکی کوشش میں تھے اور چاہتے تھے کہ وہ اس طرح انقلابی کمیٹیوں کو دفاعی حالت میں لا کھڑا کریں ، لیکن یمن کے انقلابیوں کی جنوب کی جانب پیش قدمی اور یمن میں عبد ربہ کی متوازی حکومت قائم کر نے سے روکنے نے ان کے عربی حامیوں کو دفاعی حالت سے دو چار کر دیا ہے ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button