پشاور اور شکار پور کے لرزہ خیز سانحات کی دلخراش بازگشت

آرمی پبلک اسکول پشاور اور شکارپور کے لرزہ خیز سانحات کی دلخراش بازگشت قومی اسمبلی میں اس وقت بڑی شدومد کے ساتھ سنی گئی جب وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ان انسانیت دشمن دلدوز واقعات کے حوالے سے جاری تحقیقات کی پیش رفت کے بارے میں ایوان کو اعتماد میں لینے کے لئے پالیسی بیان دیا۔ ہرچند وزیر داخلہ کے لب و لہجے سے حکومت کے اس عزم کا اظہار ہورہا تھا کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی بیخ کنی کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھے گی۔ ایک انسان دوست شخص کی حیثیت سے ان کے لبوں اور آواز کی لرزش کو واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا جب انہوں نے کہا کہ پشاور کے ننھے منے اور معصوم بچوں کے والدین کی آہوں اور سسکیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں مسلسل سن رہے ہیں صرف وہی نہیں پورا پاکستان اور پوری دنیا انہیں سن کر اپنا دل مسوس کررہ جاتی ہے چوہدری نثار علی خان نے جذباتی لہجے میں کہا کہ ہم اپنے معصوموں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دینگے اور بے گناہوں کہ ٹپکے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔ حزب اختلاف کے بنچوں سے پشاور اور شکارپور کے اندوہناک واقعات کو بنیاد بنا کر اٹھنے والی بے ہنگم آوازوں کو وزیر داخلہ کا بیان سن کر چپکی لگ گئی پورا ایوان اور گیلریاں دم بخود ہو کر ان کی گفتگو کو سنتی رہیں انہوں نے بتایا کہ سانحہ پشاور کو انجام دینے والے تمام سفاک افراد وقوعہ کی شام تک واصل جہنم کردیئے گئے تھے جبکہ ان کے ڈانڈے سرحد پار افغانستان میں موجود لوگوں سے ملتے تھے بری افواج کےسربراہ جنرل راحیل شریف فوری طور پر کابل گئے تھے جس کےبعد پاکستان سے ملنے و الے سرحدی علاقے میں افغان فوج اور ایساف نے ان مکروہ عناصر کے خلاف کارروائی کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاریخ میں اس قدر عمدہ اور قریبی اشتراک عمل کبھی نہیں ہوا جس کا تجربہ سانحہ پشاور کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان وقوع پذیر ہوا ہے انہوں نے کہا کہ وہ سفارتی نزاکتوں کیو جہ سے تفصیلات میں زیادہ نہیں جاسکتے کیونکہ اس میں دوسرے ملک کی سرزمین کا حوالہ آتا ہے انہوں نے بتایا کہ شکارپور کے واقعہ کی تحقیقات میں بھی پیش رفت ہوئی ہے اسے انجام دینے والے ماسٹر مائنڈ کی نشاندہی ہوچکی ہے اس کی تفصیلات میں جانے سے گریز کرینگے کیونکہ دہشت گردوں کے تانے بانے کو بکھر جانے کا موقع ملتا ہے اور انہیں حکومتی کاررو ائیوں کے بارے میں اطلاع حاصل ہونے کی وجہ سے کھسک جانے کی مہلت مل جاتی ہے انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ تحقیقات کے کام کے مزید آگے بڑھنے کے بعد اس کی تفصیلات سے عوام اور ایوان کو آگاہ کردیا جائے گا۔








