پاکستان میں القاعدہ اور داعش کے درمیان لڑائی بڑھنے کا خدشہ

اورکزئی سے ٹی ٹی پی کے سابق کمانڈر حافظ سعید خان کو داعش کے خراسان چیپٹر کا امیر باقاعدہ مقرر کرنے سے ابوبکر بغدادی کی زیر قیادت داعش اور ڈاکٹر ایمن الظواہری کی سربراہی میں القاعدہ کے درمیان پاکستان میں اثر و رسوخ کی جاری لڑائی تیز ہوتی نظر آ رہی ہے، البغدادی اور الظواہری کے درمیان کھینچاتانی جون 2014ء میں البغدادی کی جانب سے خود کو خلیفہ مقرر کرنے کے بعد شروع ہوئی تھی، اس سے قبل الظواہری نے بے گناہ شہریوں کے قتل کو نہ روکنے اور اپنا حکم نہ ماننے پر البغدادی کو القاعدہ عراق کے چیف کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا قبل ازیں 4ستمبر 2014 ء کو ایمن الظواہری نے ایک پاکستانی کمانڈر عاصم عمر کو القاعدہ جنوبی ایشیا شاخ کا سربراہ مقرر کیا تھا، عاصم کی تقرری کا مقصد اس خطے میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر کا توڑنا تھا، القاعدہ کا یہ اقدام پاک افغان قبائلی علاقوں اور پشاور کے بعض افغان مہاجر کیمپوں میں داعش کے پروپیگنڈے کے پمفلٹ کی تقسیم کے فوراً بعد سامنے آیا تھا، اس خطے میں اپنے اپنے امیروں کی تقرری سے واضع ہوگیا کہ داعش اور القاعدہ جنوبی ایشیا میں مسلم عسکریت پسندوں کی حمایت حاصل کرنے کےلیے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں، خراسان ایک تاریخی نام ہے جو جنگجو افغانستان، پاکستان، انڈیا کے بعض حصوں ، ایران اور وسط ایشیائی ممالک پر مشتمل خطے کےلیے استعمال کرتے ہیں، آن لائن ویڈیو میں داعش کے ترجمان العدنانی نے حافظ سعید خان کو خراسان کا امیر نامزد کرنے کا اعلان کیا، یکم نومبر 2013ءکو حکیم احمد محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کی امارت کےلیے خان سید سجنا اور شہر یار محسود کے ساتھ تین مضبوط امیدواروں میں سعید خان بھی شامل تھا اس کو بیت اللہ محسود کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا جنگجو حلقوں میں حافظ سعید خان کو انتہائی سخت گیر اور خطرناک کمانڈر سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تعیناتی نے القاعدہ میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے چنانچہ پاکستان میں ایک نئے دور کا آغاز نظر آتا ہے جہاں دہشت گرد عالمی دہشت گرد مارکیٹ میں اپنا حصہ حاصل کرنے کےلیے ایک دوسرےکے خلاف جدوجہد تیز کریںگے۔








