پاکستان

دہشت گردی میں ملوث 243 دیوبندی مدارس کی نشاندہی، نگرانی شروع، ثبوت پر کارروائی کی جائے گی

دہشتگردی میں ملوث د243 دیوبندی مدارس کی نشاندہی ہوگئی،وفاقی حکومت کو موصولہ رپور ٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں243دیوبندی مدارس کسی نہ کسی طرح دہشتگردی میں ملوث رہے ہیں، ان مدارس کا تعلق چاروں صوبوں اور فاٹا سے ہے، تاہم زیادہ تر ایسے مدارس پنجاب میں کام کررہےہیں ، پنجاب کی حکومت نے انسداد دہشتگردی کیخلاف دیگرصوبوں کے مقابلے میں جو ٹھوس اور دیر پا اقدامات کئے ہیں اس کے نتیجے میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کے فروغ میں ملوث بعض مدارس کی نشاندہی ہوئی ہے، خیبرپختونخوا ،سندھ،فاٹا ،بلوچستان ، پنجاب اورگلگت بلتستان میں نشان زدہ کچھ دینی مدارس کی نگرانی شروع کردی گئی ہے اور انہیں مالی وسائل فراہم کرنے والوں کے کوائف بھی جمع کئے جارہے ہیں ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے بعض مدارس دہشتگردوں کے سہولت کار اور نفر ت انگیز، فرقہ وارانہ مواد کی تشہیر میں بھی ملوث رہے ہیں، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ ملک میں 90فیصد سے زیادہ مدارس دینی خدمت کےلئے صحیح کام کررہے ہیں اور حکومت دینی مدارس کیخلاف کسی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتی، تاہم ایسے مدارس جو دہشتگردوں کے سہولت کار کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہیں ٹھوس ثبوت کی بنا پر ان کیخلاف علماء اورتنظیمات مدارس کو اعتماد میں لے کر کارروائی ہوگی، وزیر داخلہ نے قومی اسمبلی کے ایوان میں دہشتگردی میں ملوث مدارس کی یقینی تعداد کاذکر نہیں کیاتھاتاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ تعداد دو فیصد سے بھی کم ہوسکتی ہے،تنظیمات مدارس اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی جانب سے حکومت سے مطالبہ سامنے آتارہا ہے کہ دہشتگردی میں ملوث مدارس کی واضح نشاندہی کی جائے حکومت اس حوالے سے فی الحال دینی مدارس کیخلاف کوئی نیا محاذ نہیں کھولنا چاہتی کیونکہ انسداد دہشتگردی کے قومی ایکشن پلان کے تحت حکومت کی ساری توجہ دہشتگردی میں ملوث بڑے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے پر مرکوز ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کل(منگل )کو لاہور میں دینی مدارس کی تنظیموں کے رہنمائوں اور علماء کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کررہے ہیں،جس میں دینی مدارس کے کردار، نصاب اور دیگر اُمور زیر غور لائے جائیں گے، ذرائع کے مطابق ملک میں 26 ہزار رجسٹرڈ اور22 ہزار غیر رجسٹرڈ مدارس میں پانچ لاکھ سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں، شدت پسندی میں ملوث فاٹا کے دس سےزائد مدار س کیخلاف کارروائی کی گئی ہے اور انہیں بند کردیاگیاہے

متعلقہ مضامین

Back to top button