کابل، 11سالہ لڑکی کا مسجد میں ریپ کا نشانہ بنانے والے دیوبندی مولوی کو20سال کی سزا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک عدالت نے 11؍ سالہ لڑکی کا مسجد میں ریپ کرنے پر دیوبندی امام مسجد کو 20؍ سال قید کی سزا سنائی ہے ۔ غیر معمولی فیصلے کے وقت لڑکی نے خاندان کی مخالفت کے باوجود عدالت میں ملزم کا سامنا کیا جبکہ لڑکی کے والد اور چچا نے سزا پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملا محمد امین کو سزائے موت دینی چاہئے تھی۔ تفصیلات کے مطابق کابل میں ایک امام مسجد کو 11؍ سالہ لڑکی کا مسجد میں ریپ کرنے کے جرم میں بیس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ملزم ملا محمد امین جن کا تعلق افغان صوبے قندوز سے ہے جہاں اُس نے گزشتہ سال مئی میں لڑکی کا مسجد میں ریپ کیا۔ اس واقعے کے فوری بعد مقامی پولیس کے مطابق ایسے خدشات تھے کہ بچی کا خاندان اپنی عزت کی خاطر بچی کو مار ڈالے گا لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں نے مداخلت کر کے اس معاملے کو عدالت تک پہنچایا۔ امام مسجد کے خلاف مقدمے کی کارروائی اس وقت ڈرامائی شکل اختیار کر گئی جب بچی نے روتے اور کانپتے ہوئے خود عدالت کے سامنے پیش ہو کر ملزم کا سامنا کیا۔عدالت کی جانب سے 20 سال قید کی سزا پر لڑکی ان کے والد اور چچا نے مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملا محمد امین کو سزائے موت دی جانی چاہئے تھی۔ملا امین کو کمر تک زنجیروں میں جکڑ کر عدالت میں پیش کیا گیا جس سے تقریباً 6 فٹ کے فاصلے پر لڑکی نشست پر بیٹھی ہوئی تھی۔ لڑکی نے اپنے چہرے کو مکمل طور پر نقاب سے ڈھانپا ہوا تھا اور انہوں نے زاروقطار روتے ہوئے اپنا بیان دیا۔ بی بی سی کےمطابق سرکار نے ملا محمد امین کی جانب سے اقبالی بیان پڑھ کر سنایا مگر ملا محمد امین نے اپنے دفاع میں بولتے ہوئے دعویٰ کیا کہ لڑکی نے انہیں ورغلایا جس پر لڑکی نے رونا بند کیا اور ڈرامائی انداز میں اپنا نقاب ہٹا کر ملا امین کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’او جھوٹے، جھوٹے خدا تم سے نفرت کرتا ہے تم غلیظ ہو، گندے ہو تم، تم ایک شیطان







