بلوچ عليحدگی پسندوں اور لشکر جھنگوی کا اتحاد: حکومت کے ليے نیا چیلنج

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان ميں عليحدگی پسندوں اور سخت گير اسلامی نظريات کی حامل شدت پسند تنظيم لشکر جھنگوی کے اتحاد سے اسلام آباد حکومت کے ليے نئی پريشانياں کھڑی ہو سکتی ہيں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی کوئٹہ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پاکستان کے قدرتی وسائل سے مالا مال صوبے بلوچستان ميں عليحدگی پسندوں اور سنی مسلمانوں کی انتہا پسند تنظيم لشکر جھنگوی نے آپس میں اتحاد قائم کر لیا ہے۔ اگرچہ روايتی طور پر اِن دونوں کے مقاصد کافی عليحدہ ہيں، تاہم نئے اتحاد ميں دونوں ہی نے حکومت پاکستان کی مخالفت ميں لڑنے کا فيصلہ کيا ہے۔ صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ مير سرفراز احمد بگٹی نے ايسی رپورٹوں کی تصديق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالکل یہ دونوں گروپ آپس میں تعاون کرتے ہیں اور دونوں جنگجو گروپ رياست کے خلاف لڑائی کا مشترکہ مقصد رکھتے ہيں۔ صوبہ بلوچستان کے ايک اور اعلیٰ اہلکار نے اپنی شناخت مخفی رکھے جانے کی شرط پر نيوز ايجنسی روئٹرز کو بتايا کہ يہ دونوں جنگجو گروپ بڑے حملوں کے لیے حکمت عملی ميں تعاون کرتے آئے ہيں۔ اِس اہلکار کے بقول لشکر جھنگوی کے ارکان کو بلوچ نسل کے افراد کو بھرتی کرتے ہوئے ديکھا گيا ہے۔ دونوں گروپ ايک ہی علاقے ميں سرگرم ہيں اور يہ حقيقت بھی اُنہيں ايک دوسرے کے قريب لائی ہے۔بلوچ عليحدگی پسند صوبے ميں لاپتہ افراد کی ذمہ داری بھی حکومت پر عائد کرتے ہيں کوئٹہ میں صوبائی حکومت کے اِس اہلکار نے مزيد بتايا کہ عليحدگی پسندوں نے مشکل اہداف تک رسائی حاصل کرنے اور بم نصب کرنے کے ليے بچوں کا استعمال کيا۔ يہ طرز عمل روايتی طور پر لشکر جھنگوی اپنے استعمال ميں لاتا آیا ہے۔ دونوں مسلح گروپوں کے مشترکہ حملوں کی ايک تازہ مثال دس جنوری کو کيا جانے والا وہ حملہ تھا، جس میں ايک بم کے ذريعے ايک سکيورٹی وين کو نشانہ بنا کر بعد ازاں ايک شيعہ علاقے کو ہدف بنايا گيا۔ اِس حملے ميں قريب 100 افراد شہید ہوئے تھے۔ سکيورٹی اہلکار کے مطابق دونوں گروپوں کے مابين اتحاد کسی باقاعدہ معاہدے کا نتيجہ نہيں بلکہ یہ منصوبہ بندی کے حوالے سے تعاون پر مبنی ہے۔ دوسری جانب بلوچستان ميں عليحدگی پسند تحريک چلانے والوں نے لشکر جھنگوی کے ساتھ اتحاد کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ يہ اُن کی ساکھ متاثر کرنے کی ايک کوشش ہے۔ امريکی دارالحکومت واشنگٹن ميں مقيم صحافی ملک سراج نے بھی اِس بارے ميں اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اِس سلسلے میں کوئی شواہد فراہم نہيں کيے گئے۔ پاکستان میں عمومی رائے کے مطابق بلوچ عليحدگی پسند لشکر جھنگوی کے مقابلے ميں قدرے کم سخت گير نظريات کے حامل ہيں اور اُن کی مسلح تحريک پاکستان سے عليحدگی کے سلسلے ميں ہے۔ اُن کے موقف ميں مذہبی عنصر پر توجہ قدرے کم ہے جبکہ اُن کا دعویٰ ہے کہ حکومت صوبہ بلوچستان ميں پائی جانے والی قدرتی گيس اور ديگر معدنی دخائر سے فائدہ اٹھاتی رہی ہے اور اس سے ملک کے ديگر زيادہ امير صوبوں کو ہی فائدہ پہنچا ہے۔ بلوچ عليحدگی پسند حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزيوں اور عليحدگی پسندوں کے خلاف کريک ڈاؤن کے الزامات بھی عائد کرتے ہيں۔ اس کے برعکس لشکر جھنگوی سخت گير اسلامی نظريات کا حامل ایک ممنوعہ گروہ ہے، جو بالخصوص شيعہ مسلمانوں کے انتہائی خلاف ہے اور شيعہ برادری کے افراد اور مفادات پر متعدد خونريز حملے کر چکا ہے۔








