سانحہ مستونگ کیخلاف اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دوسرے روز میں داخل ہوگیا

سانحہ مستونگ کیخلاف ملک کے دیگر شہروں کی طرح اسلام آباد میں بھی فیض آباد انٹر چینج پر مجلس وحدت مسلمین اور امامیہ اسٹوڈنٹس آگنائزیشن کے زیراہتمام دھرنا جاری ہے۔ دھرنے کے دوسرے روز بھی خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ دھرنے سے خطاب میں مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی اور صوبائی ترجمان علامہ اصغر عسکری نے کہا کہ جب تک کوئٹہ میں شہداء کے ورثاء کے مطالبات تسلیم نہیں کرلیے جاتے اس وقت تک ملک گیر دھرنے جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کیلئے اچھا موقع ہے کہ وہ کوئٹہ جائیں اور شہداء کے ورثاء سے اظہار یکجہتی کرکے ثابت کریں کہ وہ دہشتگردوں کے حامی نہیں بلکہ مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے بارے میں ملت تشیع کے تحفظات ہیں کہ وہ دہشتگردوں کی حامی جماعت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سابقہ سانحات کو مدنظر رکھا جاتا اور غیر ریاستی عناصر کی سرکوبی کی جاتی تو آج ہمیں یہ دن دیکھنے کو نہ ملتے۔ آج ہر آنکھ اشکبار ہے، ریاست سے عوام کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔ جب آرمی اپنے جوانوں کا بدلہ لیتے ہوئے فضائی آپریشن کرے جبکہ عام لوگوں کی شہادت پر خاموشی دیکھنے کو ملے تو تحفظات پیدا ہونا فطری امر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں فی الفور طالبان کے خلاف آپریشن کا اعلان کریں تاکہ فوج اس ناسور کو ختم کرکے ہی دم لے۔ فیض آباد انٹرچینج بند ہونے سے اس وقت جڑواں شہروں میں شدید ٹریفک جام ہے۔ کئی کئی کلومیٹر تک ٹریفک رکی ہوئی ہے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔








